الصفحة 24 من 389

فہرست میں بیس ورقے ہوا کرتے تھے۔الحکم کے زمانے میں ہی قرطبہ کو"دارالعلوم"کا نام دیاگیا تھا کیونکہ وہاں تیس کے قریب مدارس تھے جہاں بلا معاوضہ علوم و فنون کی تدریس ہوا کرتی تھی۔ہر طرف ممالک میں مخطوطات کی نقلیں کرنے والے روانہ کیے جاتے تھے جو کتب کو نقل کر کے قرطبہ لایا کرتے تھے اورامراء کے مابین بھی کتب بینی اور جمع کتب کے حوالے سے مسابقت کی فضا قائم تھی [1] ۔شعراء میں شعر گوئی کے مقابلے عام تھے۔مفکرین اور مقررین فکر و لسان کی بزم آرائیوں میں ہمہ تن مشغول نظر آتے تھے۔لسان ا لدین الخطیب نے صرف ایک جنگ میں شریک ہونےو الے تئیس شعراء کے نام گنوا کر کہا ہے کہ یہ وہ نام ہیں جو مجھے یاد رہ گئے ہیں ورنہ حقیقی تعداد ان سے کہیں زیادہ ہے [2] ۔

علمائے قرطبہ نے ہر فن میں مشق آزامائی کی لیکن دو علوم میں زیادہ الگ تھلگ نظر آئے فلسفہ اور علم نجوم تھے۔ان دو علوم میں قرطبہ کے ایک معتد بہ علماء کو مہارت حاصل تھی البتہ عوام کی رائے فلسفہ و علم نجوم کے حوالے سے کچھ اچھی نہ تھے۔یہی وجہ تھی کہ بہت سے اہل علم و فضل ان موضوعات پر گفتگو سے اعراض برتتے تھے۔ [3] شعر اور فقہ قرطبہ کی ثقافت کے دو بڑے ستون تھے اور مشارب کے اختلا ف کے باوجود اکثر علماء کے ہاں یہ دونوں اکٹھے ہو جایا کرتے تھے۔

بنو جہور کا زمانہ اگرچہ قرطبہ میں قدرے سکونکا زمانہ تھا لیکن علم و فن کی طرف توجہ اس طرح باقی نہ رہی تھی جیسے اشبیلیہ کے شاہی دربار میں پذیرائی ہوا کرتی تھی۔اس کے باوجود یہاں ابن زیدون،ابن حیان،ولادۃ الشاعرۃ،ابوالحسن ابن السراج اور عبدالرحمٰن بن فتوح کے جو حالات تواریخ میں مذکور ہیں ان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دور بھی ثقافت و علم سے کلیتا خالی نہ تھا۔ابن خلدون نے نختلف ادوار میں قرطبہ کے تہذیب و تمدن میں آنے والے تغیر کا نقشہ یوں کھینچا ہے کہ اول اول قرطبہ بغداد اور دمشق کے مقابلے پر تھا ور ایک طویل عرسہ یہی صورتحال رہی کہ علم کے سمندر موجزن تھے ،آئے روز ثقافت و تہذیب میں نت نئی اختراعات سامنے آیا کرتی تھیں،فکر و نظر کےنئے سے نئے دریچے وا ہوا کرتے تھے۔پھر جب آبادی میں کمی آ گئی تو لوگ بھی منتشر ہو کر رہ گئے اور تعلیم و ثقافت کی سرگرمیاں بھی دوسرے بڑے شہروں میں منتقل ہونے لگیں [4] ۔عمومی طور پر پانچوں صدی ہجری کے وسط میں اندلس کی ثقافتی حالت رفتہ رفتہ اسی تغیر سے گزر رہی تھی۔

علمی حالات

علمی حوالے سے یہ بات تو معروف ہے کہ اندلس کے حاکم عموماََ علم دوست رہے ہیں۔خلیفہ عبدالرحمٰن بن محمد الناصر

[2] الاحاطه في أخبار غرناطه، لسان الدین الخطیب، ت:محمد عبد الله عنان، ج2،ص104۔

[3] نفخ الطیب،ص205

[4] مقدمہ ابن خلدون،ص362

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت