فهرس الكتاب
کرے۔'' طاؤس کہتے ہیں: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ شہری کی دیہاتی کے لیے بیع سے کیا مراد ہے ؟ تو انھوں نے جواب دیا:اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ اس کے لیے ایجنٹ یا دلال بن جائے۔''
اس کے برعکس ابن حزم اور اہل الظاہر، صحابہ رضی اللہ عنہم کے اقوال یا تشریحات کو حجت نہیں مانتے بل کہ ان کی روایت کردہ نصوص حدیث ہی حجت ہیں اور ان میں نہی مطلق ہے جس میں اجرت وغیرہ کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ ابن حزم لکھتے ہیں:
وَلَا يَجُوزُ أَنْ يَتَوَلَّى الْبَيْعَ سَاكِنُ مِصْرٍ، أَوْ قَرْيَةٍ، أَوْ مِجْشَرٍ لِخَصَّاصٍ لَا فِي الْبَدْوِ وَلَا فِي شَيْءٍ مِمَّا يَجْلِبُهُ الْخَصَّاصُ إلَى الْأَسْوَاقِ، وَالْمُدُنِ، وَالْقُرَى، أَصْلًا وَلَا أَنْ يَبْتَاعَ لَهُ شَيْئًا لَا فِي حَضَرٍ وَلَا فِي بَدْوٍ، فَإِنْ فَعَلَ فُسِخَ الْبَيْعُ وَالشِّرَاءُ أَبَدًا، وَحُكِمَ فِيهِ بِحُكْمِ الْغَصْبِ، وَلَا خِيَارَ لِأَحَدٍ فِي إمْضَائِهِ، وَلَكِنْ يَدَعُهُ يَبِيعُ لِنَفْسِهِ، أَوْ يَشْتَرِي لِنَفْسِهِ، أَوْ يَبِيعُ لَهُ خَصَّاصٌ مِثْلُهُ، وَيَشْتَرِي لَهُ كَذَلِكَ، لَكِنْ يَلْزَمُ السَّاكِنَ فِي الْمَدِينَةِ؛ أَوْ الْقَرْيَةِ، أَوْ الْمِجْشَرِ: أَنْ يَنْصَحَ لِلْخَصَّاصِ فِي شِرَائِهِ وَبَيْعِهِ، وَيَدُلَّهُ عَلَى السُّوقِ، وَيُعَرِّفَهُ بِالْأَسْعَارِ . [1]
''کسی شہر یا بستی کے رہایشی کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ بدوی کے لیے بیع کی ذمہ داری اٹھائے؛نہ تو کسی دیہات میں اور نہ ہی ایسی شے کے متعلق جو شہروں میں لائی جاتی ہے اور نہ وہ اس کے لیے کچھ بھی خریدے گا،حضر ہو یاسفر۔اگر وہ ایسا کرتا ہے تو وہ خرید و فروخت فسخ ہو گی اور اس پرغصب کا حکم لگایا جائے گا۔نیز اس کے متعلق کسی کو خیار حاصل نہیں ہو گا کہ اسے برقرار رکھ سکے۔شہر یابستی کے رہنے والے پر لازم ہے کہ وہ خرید و فروخت میں بدوی کی معاونت کر ے ؛بازار تک اس کی رہ نمائی کرے اور اسے قیمتوں کے متعلق آگاہی دے۔بدوی کے لیے البتہ جائز ہے کہ وہ کسی شہری کے لیے خرید و فروخت کی ذمہ داری اٹھائے۔''
اسی نوعیت کی ایک مثال وہ حدیث ہے جس میں طعام کو قبضے میں لینے سے پہلے بیچنے کی ممانعت کی گئی ہے۔امام بخاری کا رحجان یہ ہے کہ طعام کے علاوہ اشیا کا بھی وہی حکم ہے جو طعام کا ہے۔ اس کے لیے انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی راے سے استناد کیا ہے:
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: الَّذِي حَفِظْنَاهُ مِنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ طَاوُسًا، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: أَمَّا الَّذِي نَهَى عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «فَهُوَ الطَّعَامُ أَنْ يُبَاعَ حَتَّى يُقْبَضَ» ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَلاَ أَحْسِبُ كُلَّ شَيْءٍ إِلَّا مِثْلَهُ
طاوس کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو طعام کے متعلق منع فرمایا ہےکہ اسے قبضے