فهرس الكتاب
میں لینے سے پہلے فروخت نہ کیا جائے۔ پھر ابن عباس نے کہا کہ میں ہر چیز کو طعام ہی کے مانند سمجھتا ہوں۔''
امام بخاری نے اس حدیث پر یہ عنوان باندھا ہے:
بابُ بَيْعِ الطَّعَامِ قَبْلَ أَنْ يُقْبَضَ، وَبَيْعِ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ . [1]
تا ہم محدثین میں سے امام احمد اور اسحاق نے ظاہر حدیث ہی پر اکتفا کرتے ہوئے محض طعام ہی کے متعلق منع کیا ہے کہ اسے قبضے میں لینے سے پہلے بیچا جائے۔امام ترمذی لکھتے ہیں:
وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ العِلْمِ كَرِهُوا بَيْعَ الطَّعَامِ حَتَّى يَقْبِضَهُ المُشْتَرِي، وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ فِيمَنْ ابْتَاعَ شَيْئًا مِمَّا لَا يُكَالُ وَلَا يُوزَنُ مِمَّا لَا يُؤْكَلُ وَلَا يُشْرَبُ، أَنْ يَبِيعَهُ قَبْلَ أَنْ يَسْتَوْفِيَهُ، وَإِنَّمَا التَّشْدِيدُ عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ فِي الطَّعَامِ، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ. [2]
''اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے اور انھوں نے اس کوناپسند جانا ہے کہ مشتری طعام (غلہ) کو قبضے میں لینے سے پہلے اس کی بیع کرے۔ بعض اہل علم نے اس شخص کو رخصت دی ہے جو کوئی ایسی شے کی خرید و فروخت کرے جسے ناپا تولا جاتا ہے اور نہ وہ کھائی یا پی جاتی ہے۔ علما کے ہاں سختی غلے کے سلسلے میں ہے۔ احمد اور اسحاق کا یہی قول ہے۔''
احمد اور اسحاق ہی کی راے کو ظاہر یہ اور ابن حزم نے اختیار کیا ہے۔
بہ ہر آئینہ محدثین اورابن حزم کے اسلوب فرق پایا جاتا ہے۔اسی لیے محدثین کے یہاں بہ وقت ضرورت راے پر بھی اعتماد کیا جاتا ہے جب کہ ابن حزم راے کی تمام صورتوں کو کلیتًا مسترد کرتے ہیں۔ محدثین بھی اگرچہ راے کو ناپسند کرتے ہیں لیکن وہ اسے محمود اور مذموم راے میں تقسیم کرتے ہیں اور جو راے نص کے مخالف نہ ہو، اسے مقبول گردانتے ہیں۔امام احمد بہ وقت ضرورت قیاس کو بھی روا رکھتے تھے؛اسی طرح ان کے یہاں مصلحت اور استحسان سے استدلال کی مثالیں بھی ملتی ہیں۔ [3]
نصوص کے حوالے سے محدثین اور ابن حزم کے اسالیب میں ایک فرق یہ بھی پایا جاتا ہے ۔ابن حزم محض اسی کو حدیث یا نص مانتے ہیں جو صراصتًا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہو۔چناں چہ اگر صحابی یہ کہے:
أمرنا؛نهينا؛من السنة کذا؛کنانفعل کذا علی عهد النبی صلی اللّٰه علیہ وسلم
تو یہ تمام صورتیں نصوص کے دائرے میں نہیں آتیں،نہ ان سے استدلال درست ہو گا۔اس کی تفصیل گذشتہ باب کی
[2] سنن ترمذی،ابوب البیوع،باب ماجاءفی کراھیۃ بیع الطعام حتی یستوفیہ
[3] ابو زہرہ ،ابن حنبل،ص300؛المغنی5؍234