فهرس الكتاب
اثرانداز ہوتا ہے جبکہ سبب کا تعلق کسی چیز سے الگ اور جدا ایک دوسرے وجود سے ہے جو خارج سے اس مخصوص چیز پر اثرانداز ہوتا ہے۔
امام ابن حزم رحمہ اللہ اور جمہور کا تصورِ علت:
امام ابنِ رُشد رحمہ اللہ اپنی کتاب میں جمہور اور اہل الظاہر کے تصورِ قیاس و علت کی طرف نشان دہی کرتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ:
إِنَّ الطُّرُقَ الَّتِي مِنْهَا تُلُقِّيَتِ الْأَحْكَامُ عَنِ النَّبِيِّ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - بِالْجِنْسِ ثَلَاثَةٌ: إِمَّا لَفْظٌ، وَإِمَّا فِعْلٌ، وَإِمَّا إِقْرَارٌ. وَأَمَّا مَا سَكَتَ عَنْهُ الشَّارِعُ مِنَ الْأَحْكَامِ فَقَالَ الْجُمْهُورُ: إِنَّ طَرِيقَ الْوُقُوفِ عَلَيْهِ هُوَ الْقِيَاسُ، وَقَالَ أَهْلُ الظَّاهِرِ: الْقِيَاسُ فِي الشَّرْعِ بَاطِلٌ، وَمَا سَكَتَ عَنْهُ الشَّارِعُ فَلَا حُكْمَ لَهُ وَدَلِيلُ الْعَقْلِ يَشْهَدُ بِثُبُوتِهِ، وَذَلِكَ أَنَّ الْوَقَائِعَ بَيْنَ أَشْخَاصِ الْأَنَاسِيِّ غَيْرُ مُتَنَاهِيَةٍ، وَالنُّصُوصَ، وَالْأَفْعَالَ وَالْإِقْرَارَاتِ مُتَنَاهِيَةٌ، وَمُحَالٌ أَنْ يُقَابَلَ مَا لَا يَتَنَاهَى بِمَا يَتَنَاهَى. [1]
'' بلاشبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے احکامِ شرعیہ تین طریقوں سے موصول ہوتے ہیں: قولی، فعلی، تقریری۔ اور جہاں شریعت خاموش رہے؛ جمہور کے مطابق وہاں سے راہنمائی لینے کا طریقہ قیاس ہے۔ اہلِ ظاہر کہتے ہیں کہ شریعت میں قیاس سے کام لینا باطل ہے اور جن مسائل میں شریعت خاموشی اختیار کرے؛ ان کا کوئی حکم نہیں ہے اور عقلی طور پر وہ جائز ہیں۔ ایسی صورت میں انسانی حالات و واقعات غیرمتناہی ہیں جبکہ نصوصِ شرعیہ محدود ہیں، چنانچہ یہ ایک ناممکن امر ہے کہ غیرمحدود کا محدود کے ساتھ احاطہ کیا جا سکے۔
علماء اور فقہاء کے مابین احکامِ شرعیہ کی تعلیل و توجیہ بیان کرنے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ یہ اقوال و آراء نہ صرف کسی حکمِ شرعی کی مختلف تعلیلات بیان کرنے میں ہیں بلکہ تعلیل کے تعین میں بھی پائی جاتی ہیں۔ اس سلسلے میں ایک طرف امام ابن حزم رحمہ اللہ کی رائے پائی جاتی ہے، جن کا کہنا ہے کہ شریعت صرف احکام بیان کرتی ہے جبکہ اس کے اوصاف اور تعلیلات کا اپنی طرف سے تعین کر کے ہم اسلام میں اضافے کے مرتکب ہوتے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف علمائے احناف بالخصوص اور جمہور اُمت بالعموم علت کی تعیین کے قائل نظر آتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ علت کی صورت میں بیان کردہ وصف شریعت میں اضافہ نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے نازل کردہ حکم کی پیروی ہے، کیونکہ شریعت کا عمومی مزاج اسی طرح محسوس ہوتا ہے کہ یہاں ہر حکم کا انحصار چند اوصاف پر ہوتا ہے، چنانچہ علت کی تعیین میں من جملہ ان اوصاف میں سے کسی وصف کی تلاش کی جاتی