الصفحة 327 من 389

ہے۔جس سے مقصود شریعت کو وسعت دینا ہوتا ہے اور غیرمنصوص مسائل میں راہنمائی لینا ہوتا ہے۔

ابن حزم فرماتے ہیں:

وقال أبو سليمان وجميع أصحابه رضي اللّٰه عنهم لا يفعل اللّٰه شيئا من الأحكام وغيرها لعلة أصلا بوجه من الوجوه فإذا نص اللّٰه تعالى أو رسوله صلى اللّٰه عليه وسلم على أن أمر كذا لسبب كذا أو من أجل كذا ولأن كان كذا أو لكذا فإن ذلك كله ندري أنه جعله اللّٰه أسبابا لتلك الأشياء في تلك المواضع التي جاء النص بها فيها ولا توجب تلك الأسباب شيئا من تلك الأحكام في غير تلك المواضع البتة، وهذا هو ديننا الذي ندين به وندعو عباد اللّٰه تعالى إليه ونقطع على أنه الحق عند اللّٰه تعالى [1]

''ابوسلیمان اور ان کے تمام اصحاب کا مؤقف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے احکام کو بنیادی طور پر کسی طرح کی علت کے ساتھ معلق نہیں کیا۔ جب اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول کسی صورت میں اور کسی وجہ سے جس طرح حکم دیتے ہیں اور جس وجہ سے دیتے ہیں؛ یہ سب باتیں ہم جانتے ہیں۔ یہ واضح ہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کو خاص ان منصوص احکام کے لیے ہی سبب بنایا ہے۔ چنانچہ یہ وجوہات اور تعلیلات اس کے علاوہ دیگر مواقع کے لیے کسی صورت استعمال نہیں کی جا سکتیں۔یہی ہمارا دین ہے، جسے ہم نے بطورِ دین تسلیم کرتے ہیں اور اسی کی ہم اللہ کے بندوں کو دعوت دیتے ہیں، ہمیں یقین ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے حق ہے۔''

ابن حزم کی درج بالا عبارت سے واضح ہوتا ہے کہ:

1.آپ کے نزدیک علتِ شرعی کا کوئی وجود نہیں۔

2.اسلاف کی طرف سے جب کسی حکمِ شرعی کی علت کا تعین کیا جاتا ہے تو اسے صرف اسی حکم تک محدود رکھا جائے، مزید آگے منتقل نہ کیا جائے۔

3.یہ ایک ایسی پختہ بات ہے جسے بطورِ دین کے تسلیم کیا جانا چاہیے۔

چنانچہ اسی وجہ سے امام ابن حزم رحمہ اللہ نے اپنی کتاب الإحكام في أصول الأحكام کا اُنتالیسواں باب یہ باندھا ہے:

''في إبطال القول بالعلل في جميع أحكام الدين''

یعنی اس باب میں ان لوگوں کی آراء مسترد قرار دی گئی ہیں جو تمام احکامِ دینیہ کی کوئی نہ کوئی علت متعین کرتے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت