فهرس الكتاب
احناف کا تصورِ علت
امام سرخسی رحمہ اللہ اپنی کتاب اصول سرخسی میں فرماتے ہیں:
قَالَ فريق من الْعلمَاء الْأُصُول غير معلولة فِي الأَصْل مَا لم يقم الدَّلِيل على كَونه معلولا فِي كل أصل وَقَالَ فريق آخر هِيَ معلولة إِلَّا بِدَلِيل مَانع وَالْأَشْبَه بِمذهب الشَّافِعِي رَحمَه اللّٰه أَنَّهَا معلولة فِي الأَصْل إِلَّا أَنه لَا بُد لجَوَاز التَّعْلِيل فِي كل أصل من دَلِيل مُمَيّز وَالْمذهب عِنْد عُلَمَائِنَا أَنه لَا بُد مَعَ هَذَا من قيام دَلِيل يدل على كَونه معلولا فِي الْحَال [1]
''علماء کی ایک جماعت کا کہنا ہے کہ احکامِ شرعیہ بنیادی طور پر بغیر علت کے ہیں، صرف انہیں ہی معلول تسلیم کیا جائے جن کی علت بیان کی گئی ہے جبکہ علماء کے دوسرے گروہ کا مؤقف یہ ہے کہ تمام احکام ہی معلول ہیں، ہاں صرف وہاں علت تسلیم نہ کی جائے جہاں منع کیا گیا ہو۔ یہ رائے امام شافعی رحمہ اللہ سے کافی ملتی جلتی ہے کیونکہ ان کا بھی یہی مؤقف ہے۔ اور ایسے ہی ہمارے مکتبہ فکر کے علماء بھی یہی رائے رکھتے ہیں کہ جب کوئی علت بیان کی جائے تو اس میں دلیل ضرور دی جائے۔''
امام سرخسی رحمہ اللہ کے درج بالا اقتباس سے واضح ہوتا ہے کہ:
1.احکامِ شرعیہ کے معلول اور غیرمعلول ہونے میں دونوں طرح کی متضاد آراء پائی جاتی ہیں۔
2.امام شافعی رحمہ اللہ اور علمائے احناف احکامِ شرعیہ کے معلول ہونے کے قائل ہیں۔
3.امام شافعی رحمہ اللہ اور علمائے احناف احکامِ شرعیہ کے وہاں معلول ہونے کے قائل نہیں جہاں بیانِ علت سے منع کیا جائے۔
امام شافعی رحمہ اللہ کا تصورِ علت
امام شافعی رحمہ اللہ کی کتاب الرسالة میں علت کی حقیقت، اس کے جواز اور عدمِ جواز پر قیاس کی بحث کی صورت میں راہنمائی ملتی ہے۔ واضح رہے کہ قیاس کے اراکینِ اربعہ میں سے بنیادی ترین رُکن علت ہی ہے، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ قیاس کے جواز میں شدت پیدا کرتے ہوئے یہاں تک فرماتے ہیں کہ اجتہاد اور قیاس دونوں مترادف ہی ہیں۔ پھر قیاس کی دو قسمیں بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
والقياس من وجهين: أحدهما: أن يكون الشيء في معنى الأصل، فلا يختلف القياس فيه. وأن يكون الشيء له في الأصول أشباهٌ، فذلك يُلحق بأولاها به وأكثرِها شَبَهًا فيه.