فهرس الكتاب
وقد يختلف القايسون في هذا. [1]
''قیاس دو طرح کا ہے: ایک یہ کہ کسی چیز کا (حکم) اصل میں ہو۔ یہ ایک متفقہ قیاس ہے۔ دوسرا یہ کہ کوئی چیز اصلی (اشیاء) سے ملتی جلتی ہو، تو اسے پہلی کے ساتھ ملا دیا جاتا ہے۔ یہ مشابہت (کُلی) یا کثیر (اجزاء) کی بناء پر بھی ہو سکتی ہے۔ اس قیاس میں اختلاف ہے۔''
توضیح
امام شافعی رحمہ اللہ کی درج بالا عبارت سیاق و سباق کی روشنی میں یہ واضح کرتی ہے کہ آپ کے نزدیک قیاس دو طرح کا ہے: ایک وہ جو معاملات میں کیا جائے، جس میں حکم کا انحصار علت و وصف پر ہوتا ہے اور پھر اسی وصف کو متعدی کر کے دیگر اشیاء کا حکم معلوم کر لیا جاتا ہے۔ جیسے شراب کی وجہ سے نبیذ کی حرمت معلوم ہوتی ہے۔ اور آپ رحمہ اللہ کے نزدیک یہ ایک ایسا قیاس ہے جس میں کسی کا اختلاف نہیں ۔ اس ضمن میں واضح رہے کہ امام شافعی کی کتاب الرسالة کی تدوین امام ابن حزم رحمہ اللہ کی کتاب الإحكام في أصول الأحكام سے صدہا برس پہلے عمل میں آئی ہے۔ جس قیاس اور علت کی تعیین کے انکار میں ابن حزم رحمہ اللہ پرزور طریقے سے اسلاف و اخلاف کو اپنا ہمنوا بنا رہے ہیں اور اسے دینِ حق قرار دے رہے ہیں جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کو اس کے اثبات میں کسی کا اختلاف ہی نظر نہیں آ رہا۔
قیاس کی دوسری قسم امام شافعی رحمہ اللہ کے ہاں وہ ہے جو عبادات میں کیا جائے۔ جس کے بارے میں وہ اختلاف کے قائل ہیں۔ جبکہ اس کے برعکس ابن حزم رحمہ اللہ علت کا مطلق انکار کر کے ہر طرح کے قیاس کا دروازہ بند کر دیتے ہیں۔ اس میں معاملات اور عبادات کی کوئی تفریق و تقسیم روا نہیں رکھتے۔درج بالا توضیحات سے عیاں ہوتا ہے کہ:
1.امام شافعی رحمہ اللہ علت و قیاس کے قائل ہیں۔
2.امام صاحب کے نزدیک قیاس دو طرح کا ہے۔
3.امام شافعی رحمہ اللہ معاملات کے قیاس کو متفقہ قرار دیتے ہیں جبکہ ابن حزم رحمہ اللہ اسلاف کو ہمنوا بناتے ہوئے اس کا انکار کرتے ہیں۔
تصورِ علت کا تقابل
مذکورہ بحث سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ امام ابن حزم رحمہ اللہ علت کے انکاری ہیں۔ ان کے مطابق کسی حکمِ شرعی کو اپنی طرف سےبیان کردہ وصف کے ساتھ معلق کرنا شریعت میں اضافہ ہے۔ چنانچہ احکامِ شرع کو ان کی بیان کردہ حدود میں محدود رکھنا چاہیے۔ اس کے برعکس جمہور ائمہ کے نزدیک علت کی تعیین ایک بالکل مناسب اور جائز امر ہے، جس کا تتبع اور تلاش شریعت میں اضافہ نہیں بلکہ حکمِ شرع ہی کی پیروی ہے۔