فهرس الكتاب
اگر اس مقدمہ کو تسلیم کر لیا جائے تو معًا منطقی طور پر یہ سوال ذہن میں ابھرتا ہے کہ احکامِ شرع محدود ہیں جبکہ انسانی زندگی کے مسائل لامحدود ہیں۔ پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اسلام اپنے پیروکاروں سے تمام شعبہ ہائے زندگی میں پیروی کا متقاضی ہے۔ جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً [1]
''اے ایمان والو! اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ۔''
چنانچہ اگر مسائلِ حیات کا جائزہ لیا جائے تو وہ واضح طور پر لامحدود ہیں۔ جبکہ فکرِ ابنِ حزم کے مطابق یہ بنیادی مسئلہ حل ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔ جیسا کہ امام ابنِ رُشد رحمہ اللہ کی کتاب بداية المجتهد کا اسی مضمون سے متعلقہ اقتباس پیچھے گزر چکا ہے کہ:
وَقَالَ أَهْلُ الظَّاهِرِ: الْقِيَاسُ فِي الشَّرْعِ بَاطِلٌ، وَمَا سَكَتَ عَنْهُ الشَّارِعُ فَلَا حُكْمَ لَهُ وَدَلِيلُ الْعَقْلِ يَشْهَدُ بِثُبُوتِهِ، وَذَلِكَ أَنَّ الْوَقَائِعَ بَيْنَ أَشْخَاصِ الْأَنَاسِيِّ غَيْرُ مُتَنَاهِيَةٍ، وَالنُّصُوصَ، وَالْأَفْعَالَ وَالْإِقْرَارَاتِ مُتَنَاهِيَةٌ، وَمُحَالٌ أَنْ يُقَابَلَ مَا لَا يَتَنَاهَى بِمَا يَتَنَاهَى [2]
''اہلِ ظاہر کہتے ہیں کہ شریعت میں قیاس سے کام لینا باطل ہے اور جن مسائل میں شریعت خاموشی اختیار کرے؛ ان کا کوئی حکم نہیں ہے اور عقلی طور پر وہ جائز ہیں۔ ایسی صورت میں انسانی حالات و واقعات غیرمتناہی ہیں جبکہ نصوصِ شرعیہ محدود ہیں، چنانچہ یہ ایک ناممکن امر ہے کہ غیرمحدود کا محدود کے ساتھ احاطہ کیا جا سکے۔''
پھر اسی چیلنج سے نبرد آزما ہونے کے لیےامام ابن حزم رحمہ اللہ کو فکر و استدلال کی کچھ نئی راہیں متعین کرنا پڑیں، جس میں وہ ہمیں پرانے اور مسلمہ معانی کو نئی اصطلاحات کا جامہ پہناتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
علامہ خطیب بغدادی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ امام داؤد نے قولًا قیاس کی نفی کی ہے لیکن فعلًا وہ اسے ماننے پر مجبور ہوئے ہیں۔ انہوں نے قیاس کو عملی طور پر اختیار کرتے ہوئے اس کا نام ''دلیل'' رکھ چھوڑا ہے۔ [3]
چنانچہ امام ابن حزم رحمہ اللہ نے جب علت کا انکار کیا تو پیش آمدہ مسائل حل کرنے کے لیے انہوں نے جو اصطلاح متعارف کروائی وہ ''دلیل'' ہے۔ امام ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جہلاء نے گمان کر رکھا ہے کہ ہم دلیل کو بطورِ اصل تسلیم کر کے نص اور اجماع سے باہر نکل گئے ہیں۔ بعض لوگوں کا گمان یہ ہے کہ قیاس اور دلیل ایک ہی چیز ہیں۔ یہ سب لوگ اپنے گمان میں سخت غلطی پر ہیں۔ [4]
[2] بداية المجتهد ونهاية المقتصد: 1 ؍ 9
[3] تاريخ بغداد للخطيب: 8؍373
[4] الإحكام في أصول الأحكام: 5؍105