فهرس الكتاب
بھی نص یا اجماع سے لانی لازم ہے جو کہ اکثر اوقات مشکل ہی سے پوری ہونے والی شرط ہے، اس کے بعد قیاس و استحسان ویسے قابل اعتناء نہیں ہیں ،باقی بچتا ہے استصحاب جس کی طرف رجوع فقہ ظاہری میں باقی سب سے بڑھ کر ہے!
حجیتِ استصحاب کے دلائل
جمہور علماء اور ابن حزم دونو استصحاب کی حجیت کے قائل ہیں لیکن ان کے دلائل مختلف ہیں۔ ا س کی وجہ یہی ہے کہ ابن حزم کا فقہی مزاج، نصوص کتاب و سنت سے ہر حال میں تمسک کی طرف مائل رہتا ہے ۔
جمہور علما نے استصحاب کے اثبات کے لیے اس آیت سے استدلال کیا ہے:
قُل لَّآ أَجِدُ فِي مَآ أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَىٰ طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهِ [1]
'' اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! ان سےکہہ دیں کہ جو وحی میرے پاس آئی ہے، اس میں تو میں ایسی کوئی چیز نہیں پاتا جو کسی کھانے والے پر حرام ہو، سوائے اس کے کہ وہ مردار ہو یا بہایا ہوا خون ہو یا سور کا گوشت ہو کہ وہ ناپاک ہے، یا کوئی گناہ کی چیز ہو کہ اس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو۔''
اس آیت میں کھانے والی چیزوں کو ان کے حال پر باقی رکھتے ہوئے حلال قرار دیا گیا ہے۔یہ دلیل نہ ہونے سے استدلال کیا گیا ہے او ریہی استصحاب ہے۔
ابن حزم کا استدلال اس باب میں ایک دوسری آیت سے ہے۔ لکھتے ہیں کہ اللہ نے آدم علیہ السلام کو زمین پر بھیجتے ہوئے فرمایا تھا:
{وَ لَكُمْ فِي الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِيْنٍ} [2]
''تمھارے لیے زمین میں جاے قرار اور ایک مدت تک فائدہ ہے۔''
اسی میں موجود لفظ متاع سے اشیاء کی اباحت ثابت ہو جاتی ہے،اس کےبعد اللہ نے جن چیزوں کو چاہا،حرام قرار دیا۔ [3]
جمہور اور ابن حزم کے استدلال میں فرق یہ ہے کہ جمہور جس آیت سے استدلال کرتے ہیں اس میں استصحاب کا وقوع ثابت کرتے ہیں، یعنی کھانے کی چیزوں کو ان کے حال پر چھوڑا گیا ہے جو خود عملًااستصحاب ہے۔ دوسری طرف ابن حزم آیتِ کریمہ کے عموم سے اشیاء کی اباحت کا کلیہ اخذ کرتےہوئے کہتے ہیں کہ لفظ متاع کو نوعِ انسانی کے لیے مباح کرنا صراحتًا نص سے ثابت ہے اور خود عقل کا اس سے کچھ لینا دینا نہیں ہے:
[2] البقرۃ 36:2
[3] الاحکام،1؍59