الصفحة 337 من 389

"وان کل ذلك موقوف على ما ترد به الشریعة." [1]

ابن حزم کے ہاں استصحاب کا وجوب و عدم میں نص پر بنا کرتا ہے۔ نص ہو گی تو حکم پایا جائے گا اور باقی رہے گا ۔نص مفقود ہو گی تو حکم کی بھی نفی ہو جائے گی اور اس سورت میں کسی سابقہ نص پر عمل کیا جائے گا اور اگر کوئی نص سابقاََ بھی موجود نہ رہی ہو تو 'متاع' کے تحت لاتے ہوئے اشیاء کا اصل حکم اباحت اس پر لاگو ہو گا جو کہ اس وقت تک اصل ہے جب تک وجوب یا ممانعت کی کوئی دلیل نہ آ جائے۔ [2]

استصحاب سے احتجاج کے باب میں ابن حزم جمہور فقہا میں حنابلہ اور شافعیہ سے زیادہ قربت رکھتے ہیں بل کہ ان سے بھی آگے بڑھے ہوئے ہیں جو استصحاب کو نفیا و اثباتاََ دونوں طرح سے تسلیم کرتا ہے۔

استصحاب کے اقسام

جمہور اہلِ علم کے ہاں استصحاب کی کئی اقسام بیان کی گئی ہیں جن کا تفصیلی ذکر گزر چکا ہے ۔ [3]

استصحابِ اباحت یہ ہے کہ تمام نفع مند چیزیں جن کے حرام ہونے پر کوئی واضح حکم نہیں ، ان کی اصل اباحت ہے۔جمہور میں کوئی بھی اس کے خلاف نہیں کرتا۔

استصحابِ حکم ،حکم کے باقی رکھنے کو کہا گیا ہے ۔ کسی مسئلہ میں جواز کا حکم ماضی میں تھا تو اب بھی باقی رہے گا جب تک کہ اس معاملہ کی حالت بدل جانے کا یقین حاصل نہ ہو جائے۔ [4] مالکیہ اس معاملہ میں احتیاط کے قائل ہیں۔

استصحابَ وصف کسی شخص یا چیز کا وصف ایسا ہی سمجھا جانا ہے جیسا کہ وہ ہے،یہاں تک کہ تبدیلی ثابت ہو جائے۔

استصحاب العقل یہ ہے کہ اگر کسی معاملے میں قبل ازیں کوئی حکم موجود نہیں تو عقل کے ذریعے استصحاب کر کے اس کا حکم معلوم کیا جائے گا۔ [5]

استصحابِ حکمِ اجماع یہ ہے کہ اجماع سے قائم ایک حکم کو تب تک باقی رکھا جائے جب تک حکم کے زائل ہونے کی واضح دلیل سامنے نہ آجائے۔ [6] تیمم کر کےنماز پڑھنے کے دوران پانی نظر آنے پر نماز مکمل کرنے یا لوٹانے کا حکم اسی کے تحت آتا ہے

[2] ابن حزم حیاتہ وفقہہ،ص521ا ممانعت کی کوئی دلیل نہ آ جائے۔اع' کے تحت لاتے ہوئے اشیاء کا اصل حکم اباحت اس پر لاگو ہو گا جو کہ اس وقت تک اصل ہے جب تک وجوب

[3] دیکھئے ا باب دوم کی فصل سوم:جمہور کے اسالیبِ اجتہاد

[4] علام الموقعين، 1؍339

[5] الكاشف عن أصول الدلائل واصول العلل للرازي، ص 129

[6] روضة الناظر1؍393

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت