فهرس الكتاب
اور اس میں اختلاف ہے۔ [1]
استصحابِ برات اصلیہ کا معنیٰ یہ کہ انسان اصلاََ حقوق سے بری ہے جب تک اس پر دلیل کی رُو سے عائد نہ ہو جائیں۔ [2] اس پر جمہور میں اتفاق پایا جاتا ہے [3]
ابن حزم کے ہاں استصحاب کی تقسیمات کا سراغ نہیں ملتا۔ وہ استصحاب الحال کے قائل نظر آتے ہیں اور اسی کا استعمال ان کے فقہی فریم ورک میں کثرت سے نظر آتا ہے۔
استصحاب پر مبنی قواعد
علماے اصول نے استصحاب کے ذیل میں کئی ایک قواعد فقیہہ کی بنا رکھی ہے۔ ان میں سے چند ایک کا ذکر جمہور کے تصور اجتہاد میں گزر چکا ہے۔ یہاں ابن حزم اور جمہور کے مابین ان قواعد کا موازنہ دیا جاتا ہے:
"الأصل في الأشیاء الاباحة." [4]
''اشیا میں اصل اباحت ہے۔''
جمہور فقہا اور ابن حزم دونوں اس قاعدے کے قائل ہیں، البتہ دونوں کا مستدل الگ ہے:
رازی اس قاعدے کو استصحابِ عقل سے ثابت کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ استصحاب کی دو اقسام ہیں ؛پہلی استصحاب اصل العقل اور دوسری استصحاب الدلالۃ۔ استصحاب العقل یہ ہے کہ اگر کسی معاملے میں قبل ازیں کوئی حکم موجود نہیں تو عقل کے ذریعے استصحاب کر کے اس کا حکم معلوم کیا جائے گا ۔ [5]
ابن حزم کے ہاں بالجزم ظاہر و باہر ہے کہ عقل کا شریعت کے آنے سے پہلے یا بعد کسی بھی صورت میں کسی شے کی اباحت و حرمت میں کوئی کردار نہیں ہے بل کہ یہ سارا عمل نصوص شرعیہ پر موقوف ہے:
"وکل هذا یبطل أن یکون للعقل مجال في حظر أو إباحة أو تحسین أو تقبیح وإن کان کل ذلك منتظر فیه ما ورد من اللّٰه تعالى في وحیه فقط." [6]
''یہ تمام کا تمام باطل کلام ہے کہ عقل کو حلت و حرمت اور تحسین و تقبیح میں کوئی کردار حاصل ہے جبکہ ان
[2] روضة الناظر 1؍234،شرح الكوكب المنير4؍404
[3] قواعد الأصول،ص75،
[4] تیسيرالتحریر: 2؍247
[5] الكاشف عن أصول الدلائل واصول العلل للرازي، ص 129
[6] الاستصحاب و حجۃ،ص65