الصفحة 347 من 389

'' (ابن حزم نے) کتاب و سنت اور اجماع پر اعتماد کیا ہے بل کہ انھوں نے صراحت کی ہے کہ کائنات میں کسی ایک کی تقلید بھی درست نہیں اگرچہ وہ صحابی ہی کیوں نہ ہوں۔'' [1]

امام ابن حزم نے اپنے نئے مکتب فکر کی بنیاد ڈالنے کے بعد قائلین تقلید و قیاس اور استحسان پروہ زور تنقیدات کیں کہ دنیاے علم و فکر میں ایک بھونچال آگیا اور ان کے بعد اسلامی تاریخ میں کوئی ایسا بڑا شخص پیدا نہیں ہوا جس پر ابن حزم کے اثرات نہ دیکھے جا سکتے ہوں۔ پھر اثرات کا دائرہ بھی وسیع اور رنگارنگ ہےکہ کہیں تو ان کے نظریہ تنقید و تجزیہ کے اثرات دکھائی دیتے ہیں۔ کہیں رد تقلید پر ان کی تنقیدات کی تاثیر دکھائی دیتی ہےاور کسی جگہ تمسک بالسنۃ ولآثار کے نشانات دیکھے جا سکتے ہیں۔ بعض جگہوں پر ارد قیاس کی بازگشت سنائی دیتی ہے اور کچھ مقامات پر تو یہ احساسات ابھرتے ہیں کہ ان کے پورے مکتب و فکرو نظر اور اجتہاد کو ہی قبول کر لیا گیا ہے۔ ذیل میں ان شخصیات اور مکاتب فکر پر ان کے اثرات کو جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔

ابوحامد الغزالی پر ابن حزم کے اثرات

تاریخ اسلام کی بڑی ترین شخصیات میں سے امام غزالی بھی ایک ہیں ابن حزم کے حوالہ سے ان کا ایک امتیاز یہ بھی ہے کہ انھوں نے ابن حزم کی زندگی کے چند سال پائے ہیں اور ابن حزم کی وفات کے قریبًا پچاس سال بعد تک زندہ رہے ہیں غزالی مسلک کا شافعی اور عقید ہ کا اشعری ہونے کے باوصف بھی ابن حزم کے اثرات سے آزاد نہیں ہو سکے بل کہ یوں احساس ہوتا ہے اپنے حالات میں احیا ء قرآن و سنت میں جو حکمت اور طریقہ کار ابن حزم رحمہ اللہ نے اپنایا،قریب قریب وہی حکمت عملی امام غزالی نے اپنا ئی۔

امام غزالی رحمہ اللہ نے جس چیز کا اعتراف برہان خود کیا ہے وہ ابن حزم کی کتاب صفات کے مبحث پر مشتمل ہے اور اس کے بارے میں رقم طراز ہیں:

"وجدت في اسماء اللّٰه تعالى کتابا الفه أبو محمد بن حزم یدل على عظم حفظه و سیلان ذهنه." [2]

''مجھے اسماے حسنیٰ پر ایک کتاب ملی ہے ۔جسے ابو محمد بن حزم اندلسی نے تالیف کیا ہے جسے دیکھ کر ان کی عظمتِ حفظ اور سلامت فکر کا انداز ہوتا ہے۔''

اس قول سے دو باتیں معلوم ہوتی ہیں ایک یہ کہ امام غزالی ابن حزم کی کتاب سے با خوبی آگاہ تھے اور دوسری بات یہ کہ وہ

[2] تذکرۃ الحفاظ3؍1147۔نفح الطیب 2؍283

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت