الصفحة 348 من 389

ان کی جلالت علمی کے معترف بھی تھے۔ اس عتراف کا کھل کر احساس وہاں ہوگا جہاں پر ہم مزید ان کے زاویہ فکر و نظر پربحث کریں گے۔

امام غزالی پر ابن حزم کی چھاپ اس وقت بہت گہری دکھائی دیتی ہے، جب امام غزالی بھی اپنے دور کے مسائل کا تجزیہ بھی بعینہ اسی طرح کرتے نظر آتے ہیں،جس طرح ابن حزم نے کیا۔ ابن حزم نے اندلس میں طوائف الملوکی کو پھیلتے دیکھااور ان کی سرکشیاں عروج پر پاتی دکھائی دیں تو انھوں پر بہ نظر غائر جائزہ لیا کہ اس وقت علما کیا کر رہے ہیں۔ اس پر انہیں احساس ہوا کہ فقہا اور علما کی بڑی جماعت حیلوں اور استحسان کے ذریعہ تقربِ امرا کی خاطر ان کے ظلم و عدوان کو جواز بخش رہی ہے اور قرآن و سنت کی طرف بالکل اعتنا نہیں ہے لہٰذا وہ ان کے خلاف سینہ سپر ہوئے اور رجوع الی الکتاب والسنۃ کی تحریک کے سرخیل بنے۔ بالکل اسی طرح امام غزالی رحمہ اللہ کے دور میں باطنیوں کی چیرہ دستیاں عروج پر تھیں۔ انھوں نے پوری اسلامی خلافت کو خوف و ہراس میں مبتلا کیا ہوا تھا اور باہر سے عیسائی مسلسل چڑھائی کر رہے تھے ،یہاں تک کہ انھوں نےا مام غزالی کی وفات کے چند سال بعد مسلمانوں سے بیت المقدس بھی چھین لیا ۔ فقہا کی امت کے ان ظروف احوال پر کوئی توجہ نہ تھی ۔اس موقع پر امام غزالی رحمہ اللہ نے احیاء العلوم تحریر فرما کر علمی اور تہذیبی سطح پر مسلمانوں میں سوچ اور فکر پیدا کرنے کی کوشش کی جس کا لب لباب یہ تھا کہ ہمیں فقہی جدلیات میں الجھنے کے بجائے اپنے تذکیہ نفس ،تعمیر شخصیت اور رجوع الی القرآن و السنۃ کی فکر کرنی چاہیے ۔عین یہی کام ابن حزم نے اندلس میں کیا ، جس نے امت کے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ۔غزالی باطنی اور اسماعیلی تحاریک کے سامنے کھڑے ہوگےلیکن انجام کار ان کا بھی وہی ہوا جو ابن حزم کا ہوا تھا، کہ فقہائے بغداد کے زیر اثر غزالی کی احیا ء العلوم کو نذر آتش کر دیا گیا۔ [1]

ایسے غزالی کے سیاسی اثر ورسوخ کی طرح ابن حزم کا سلطنت موحدین پر بہت گہرا اثر تھا کہ انھوں نے باقاعدہ سلطنت موحدیں میں فقہ ظاہری کا عملًا نفاذ کر دیا۔ ایسے ہی امام غزالی رحمہ اللہ کے بھی بانی سلطنت موحدین کے ساتھ بہت گہرے روابط تھے۔ [2]

امام غزالی پر ایک اثر یہ بھی تھا کہ فرق ضالہ اور مذاہب منحرفہ پر گفتگو اور تنقید کا جو اسلوب ابن کے ہاں پایا جاتا ہے تقریبًا وہی امام غزالی کے ہاں دیکھنے میں آتا ہے مثلًا امام غزالی نے باطنیہ کے خلاف جس طرح اپنی قلم کو جنبش دی اور نصاری کے خلاف جس زور دار انداز میں لکھا اس کی مثال امام غزالی کے پیش رؤوں میں صرف ابن حزم کے ہاں ہی ملتی ہے، حتی کے دلائل اور تنقیدات بھی قریب مماثل و متفق ہیں بسی فرق اسلوب نگارش کا معلوم ہوتا ہے۔ [3]

[2] البدایۃ والنھایۃ 12؍186

[3] عبدالحلیم عویس ، ابن حزم الاندلسی وجھودہ فی البحث التاریخی و الحضاری ص347 ط الالوکۃ

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت