الصفحة 363 من 389

ابن حزم راے اور قیاس کے سخت مخالف ہیں اور انھیں کسی طور گوارا کرنے کو تیار نہیں ہیں لیکن مولانا اسماعیل سلفی نے راے اور قیاس کے ذریعے اجتہاد کو بہ وقت ضرورت ناگزیر قرار دیا۔ انھوں نے لکھا ہے:

'' جب نصوص نہ ہوں؛ کتاب و سنت میں احکام صراحتًا نہ ملیں تو راے یا اجتہاد کے سوا چارہ نہیں۔ صحابہ نے بھی اجتہاد فرمایا؛ ائمہ اربعہ اور دوسرے ائمہ مجتہدین نے بھی بہ وقت ضرورت اجتہاد فرمایا۔ وقت کے ضروری مسائل کو اجتہاد ہی سے سمجھنے اور حل کرنے کی کوشش ہونی چاہیے۔ اہل حدیث اور فقہاے مذاہب سب ہی نے اجتہاد کیا اورقیاس شرعی یا میزانی، وقت کے مسائل میں مخلصی کی راہ پیدا فرمائی۔ حافظ ابن حزم اور امام داؤد ظاہری کا قیاس سے بالکل صرف نظر کا نظریہ ائمہ حدیث میں مقبول نہ ہو سکا اور فقہاے عراق میں تو اس کی گنجایش ہی کہاں تھی۔ اس لیے ائمہ حدیث اور فقہاے عراق میں قیاس سے استفادہ یا نظائر میں احکام کی وحدت کا جہاں تک تعلق ہے اس میں کوئی اختلاف نہیں؛ بہ وقت ضرورت قیاس کو سب درست سمجھتے ہیں بل کہ ضروری!'' [1]

فقہا کے جمود اور بعض غیر معتدل رویوں کا ذکر کرنے کے بعدظاہر پرستی کا مرض کا عنوان قائم کر کے لکھتے ہیں:

''حافظ ابن حزم اور امام داؤد ظاہری رحمھم اللہ نے قیاس کی ان بھول بھلیوں سے تنگ آ کر اس کی حجیت کا انکار کر دیا اور اسی تلاش میں نکلے کہ صرف کتاب و سنت پر کفایت کریں۔یہ راستا اس لحاظ سے بے خطر تھاکہ اس میں اپنی ذمہ داریاں کم ہو جاتی ہیں ۔ تاویلات اور قیاسات کی دوڑ دھوپ سےتھکنے یا ہار جانےکی نوبت نہیں آتی۔ جب دین میں مدار نقل پر ہے تو نقل پر انسان کو مطمئن ہو جانا چاہیے۔ اگر عقل بالفرض قاصر ہےتو حرج نہیں۔ اصل تونقل ہی ہے۔ جب قرآن وسنت میں ایک حکم مل گیا تو اب عقل اور نظائر کی تلاش چنداں ضروری نہ تھی؛ نہ ہی عقل کی موافقت کی شرط۔اس لیےاپنی طرف سےنہ کسی اضافہ کی ضرورت ہےنہ ہی اس خطرےکو خریدنےمیں کوئی فائدہ۔لیکن معلوم ہے کہ نصوص کا ذخیرہ محدودہے۔ سنن ثابتہ چند ہزار کےپس و پیش ہوں گی اور قرآن عزیز کی ایک سو چودہ سورتوں میں آیات احکام کی تعداد معمولی ہےلیکن حوادث کاسلسلہ غیرمحدودہے۔ جب تک دنیافنا کی حدود تک نہ پہنچ جائے، واقعات اور حوادث ہوتےرہیں گے۔ان غیر محدود واقعات کے متعلق ان محدودنصوص میں صریح احکام کیسے مل سکتےتھے۔اس لیے ظاہریت کی راہ بالاخر تکلفات کی راہ بن گئی اور عملی زندگی میں زیادہ دور تک نہ جا سکی اور ملتےجلتےنظائر سے حکم میں فرق اور تفاوت معقول اور پسندیدہ راہ نہیں شمار کی جاسکتی۔اس لیےاگرظاہری مکتب فکر ایک لحاظ سے بے خطر تھاتودوسرے نقطہ نگاہ سےبےکاربل کہ بسااوقات مضحکہ خیز بھی ہوگا۔ '' [2]

ان اقتباسات سے واضح ہے کہ مولانا محمد اسماعیل سلفی اہل حدیث کو فقہاے محدثین کے منہاج پر گام زن دیکھنا چاہتے ہیں

[2] تحریک آزادی فکر، ص25

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت