الصفحة 362 من 389

اس ضمن میں چند تصریحات ذیل میں نقل کی جاتی ہیں:

مولانا محمد اسماعیل سلفی نے ابن حزم اور ان کے ظاہریت پسندانہ منہاج کا بڑا گہرا اور تفصیلی تجزیہ کیا ہے۔ وہ ابن حزم کی ظاہریت کا سبب یوں بیان کرتے ہیں:

''اسلام کی اشاعت کے مختلف ادوار میں اس کے اثر و رسوخ اور مختلف اذہان کی عقیدت مند یوں اور مختلف قسم کے امیال و عواطف کی نیرنگیوں نے مد و جزر کی صورت اختیار کی۔ کبھی ظاہر پسندی اور الفاظ کے تقاضوں نے اتنا زور پکڑا کہ قیاس صحیح اور مصالح کو شکست دے دی گئی۔ کبھی آرا و مقاییس کی محبت نے ایسا جمود پیدا کیا کہ آ راء، رجال کے سامنے نصوص مہجور اور متروک قرار پاگئے۔ اسی مدوجزر کا نتیجہ حافظ ابن حزم کی ظاہریت ہے اور اسی کا نتیجہ فقہا کی کتاب الحیل ہے جس نے عبادات سے لے کر معاشیات تک دین کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا۔ بڑے بڑے فواحش دین کے لبادہ میں عبادت اور تفقہ تصور ہونے لگے۔ نماز، زکات، حج ، حیل کی وبا سے محفوظ نہ رہ سکے۔ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ ظاہریت کا تعلق فن حدیث سے ہے۔ ابن حزم وغیرہ پر ظاہریت اسی لیے غالب رہی لیکن حقیقت یہ ہے فقہی حیل اور ظاہریت دونوں ایک ہی ذہن کی پیداوار ہیں۔ ابن حزم اور ان کے رفقانے حدیث کے الفاظ کے ظاہر سے ٹھوکر کھائی اور اربابِِ حیل نے فقہی قواعد کے ظواہر سے دھوکا کھایا۔ شارع کے مقاصد اور مصالح دونو جگہ نظر سے اوجھل ہو گئے۔ دونو جگہ الفاظ کی ظاہریت نے معاملہ فہمی اور ذکا کی نگاہوں کو چکاچوند کر دیا۔ قیاس سے اگر نظائر کا صحیح جائزہ نہ لیا جاسکے اور شریعت کے مقاصد کا صحیح طور پر لحاظ نہ رکھا جاسکے تو صرف قیاس کے اعتراف یا اسے اصول ادلہ مان لینے سے کچھ بھی حاصل نہیں۔ اکابر کے ارشادات اگر محض اکابر کی برتری کی وجہ سے قابل احترام ہوں تو یہ بھی ظاہر پرستی کی قسم ہے اور جمود کا ایک نامناسب مظاہرہ!'' [1]

ظاہریت اور حنفیت کے متعلق شاہ ولی اللہ کی تعلیم کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

''شاہ ولی اللہ، ان کے رفقا اور ان کے متوسلین نے اس اندھیرے میں ایک روشنی کے مینار کی طرف توجہ دلائی اور وہ فقہا و محدثین کا طریق تھا۔ شاہ صاحب ہندوستان کی حنفیت اورابن حزم کی ظاہریت کو فقہا و محدثین کے دامن میں دینا چاہتے تھے۔ ہندوستان کے اہل توحید حنفی ہوں یا اہل حدیث؛ شاہ ولی اللہ سے کوئی صحیح نسبت ہے تو حنفیت خالصہ اور ظاہریت محضہ سے بچ کر انھیں فقہا و محدثین کا طریق اختیار کرنا چاہیے۔ اس دور میں اسلام کی یہ سب سے بڑی خدمت ہے۔ '' [2]

[2] تحریک آزادی فکر، ص21

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت