فهرس الكتاب
مولانا حافظ عبدالسلام بن محمد، صاحبِ تفسیر القران الکریم بھی ظاہری طرزِ فکر سے خاص مناسبت رکھتے ہیں جس کا ثبوت حافظ ثنااللہ مدنی اور ان کے مابین ہونے والی وہ گفت گو ہے جس میں جی پی فنڈ کی رقم کو مطلقًا لینے یا نہ لے کر کسی کو دینے پر بحث کی گئی ہے۔ حافظ ثناءاللہ مدنی کا کہنا تھا کہ جی پی فنڈ کے ساتھ سود لے کر خود استعمال کرنا تو ناجائز ہے لیکن اگر وہ سود خود بہ خود آ جائے تو اسے حکومتی کارندوں کے لیے چھوڑ دینے کے بجاے کسی مقروض یا مصیبت کے شکار فرد کو دے دینا چاہیے تاہم اس پر اجر و ثواب کی امید نہیں رکھنا چاہیے کہ اصلًا وہ رقم سود ہے۔ اس کے برعکس حافظ عبدالسلام بن محمد کا موقف یہ تھا کہ قرآن مجید میں سود کو لینے سے مطلقا روک دیا گیا ہے: و ذروا ما بقی من الربا (البقرۃ) پس اسے کسی صورت لینا جائز نہیں ہے۔ اس سے نص کے ظاہر سے تمسک اور نص کے مقصود یا مصالح کے حوالے سے دونو نقطہ ہاے نظر کا اختلاف واضح طور پر نظر آتا ہے۔ [1]
اسی طرح تمسک بالظاہر کے حوالے سے حافظ عبدالمنان نور پوری (م2012ء) کا طرز استدلال بھی ظاہر یہ سے مشابہت رکھتا ہے ؛ چناں چہ وہ کھڑا ہو کر جوتا پہننے کو ناجائز بتلاتے ہیں کہ حدیث میں اس کی مناہی آئی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
'' اللہ تعالی نے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جس چیز سے تمہیں منع فرمادیں، وہ چیز ممنوع اور ناجائز ہوجاتی ہے۔ جس چیز کے کرنے کا حکم اور امر فرما دیں وہ چیز فرض یا واجب ہو جاتی ہے۔ الا یہ کہ اللہ تعالی یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پہلی نہیں والی صورت میں کرنے اور دوسری امر والی صورت میں نہ کرنے کی گنجایش رہنے دیں۔اس وقت درپیش مسئلہ میں دلائل تو کھڑے ہو کر جوتے پہننے کے ممنوع ہونے پر دلالت کرتے ہیں کیوں کہ کھڑے ہو کر جوتے پہننے کی گنجایش قرآن وسنت میں کہیں وارد نہیں ہوئی۔ البتہ طبقات ابن سعد میں ایک حدیث آتی ہے کہ جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بیان ہوا ہے کہ آپ کھڑے ہوکر بھی اور بیٹھ کر بھی جوتا پہن لیا کرتے تھے لیکن اس کی سند میں ایک دو راوی مجہول ہیں اس لیے اس روایت سے کھڑے ہوکر جوتے پہننے کی گنجایش پر استدلال درست نہیں۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ مذکورہ بالا حدیث میں وارد شدہ حکم تسمے والے جوتوں کے ساتھ مخصوص ہے، ہمہ قسم کے جوتوں کو متناول نہیں مگر مجھے ابھی تک کتاب وسنت سے تخصیص کی کوئی دلیل نہیں ملی۔'' [2]
دوسرا گروہ
دوسرے مکتب فکر کے امین اہل حدیث کے کبار اساطین علم میں سید نذیر حسین دہلوی ، مولانا ثناءاللہ امرت سری، حافظ محمد گوندلوی (م1986ء) ، مولانا محمد اسماعیل سلفی (م1968ء) ، مولانا حافظ عبداللہ روپڑی (1964ء) ،مولانا حافظ عبدالرحمن مدنی اور حافظ ثناللہ مدنی ہیں۔ان کا زاویۂ نظر یہ ہے کہ اہل حدیث کا مذہب فقہاے محدثین کا ہے نہ کہ ظاہر یہ والا۔
[2] قرآن و حدیث کی روشنی میں احکام و مسائل، 1؍507