الصفحة 360 من 389

مسلک کا حلقہ تھا، انھوں نے ان کی شکایت کی جس کے بعد انھیں المحلیٰ کے بجاے تفسیر ابن کثیر کا درس دینے کا کہا گیا۔ [1]

اسی طرح انھوں نے ابن حزم الأندلسی في مكة کے عنوان سے ایک مضمون لکھا اور اس میں شیخ بدیع الدین شاہ راشدی کا تذکرہ کیا ہے؛ اس میں وہ کہتے ہیں:

'' 1976ء کے اواخر میں موسم حج کے بعد میں نے محدث شیخ بدیع الدین بن احسان اللہ شاہ راشدی سے علم حاصل کرنا شروع کیا۔ وہ ظاہری المذہب اور ابو محمد ابن حزم کے عاشقوں میں تھے۔ انھیں ابن حزم کے اقوال وافکار کی تحلیل و تفہیم کا عجیب ملکہ حاصل تھا خواہ وہ اصول فقہ ظاہری کی کتاب الاحکام میں ہوں یا المحلیٰ میں جو فقہ ظاہری کے فروع کی واحد کتاب ہے۔۔۔ المحلیٰ کی تدریس کے دوران میں وہ تقلید اوفقہی مذاہب کے تعصب کے متعلق ابن حزم کے نقطہ نظر کی تشریح کرتے تو قریب ہی احناف کے ایک حلقے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہتے: ان لوگوں کو دیکھو کہ انھوں نے کیسے خدا کی نازل کردہ کتاب اور سنت مطہرہ کو ترک کر رکھا ہے اور یہ ایسے فقہی متون سے تمسک کرتے ہیں جن کی کوئی سند خدا نے نازل نہیں فرمائی۔ اس پر اس حلقے نے حرم کے امام و مدیر شیخ محمد السبیل کو شکایت کی جنھوں نے شیخ بدیع الدین کو بلا کر کہا کہ آپ حرم میں فقہ ظاہری کا درس نہ دیا کریں۔ پھر اس کے متبادل کے طور پر انھیں تفسیر ابن کثیر کی تدریس کرنے کو کہا۔'' [2]

سید بدیع الدین راشدی کے ظاہری اندازِ فکر کی وضاحت درج ذیل اندراج سے بھی ہوتی ہے:

''انھوں نے اپنے آپ کو ظاہری بھی لکھا ہے؛ اس سے یہ مراد نہیں کہ وہ ظاہری مذہب پر عمل تھے بل کہ وہ سلف صالحین کے منہج پر ہی تھے۔ ہاں، وہ تقلید و قیاس کے سخت مخالف تھے اور ان کا نظریہ تھا کہ ہر مسئلہ قرآن وحدیث سے ثابت ہوسکتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ کوئی مسئلہ اگر مجھے سمجھ میں نہیں آتا تو اللہ تعالیٰ کسی اور کو توفیق دے گا۔۔۔۔ عبادات میں وہ اس کے قائل تھے کہ ہر چیز قرآن یا مرفوع حدیث سے ثابت ہونی چاہیے۔ اسی وجہ سے وہ وتر نماز میں دعاے قنوت میں ہاتھ اٹھانے کے قائل نہیں تھے۔ نہ اس کو قنوت نازلہ پر قیاس کرنے کو صحیح سمجھتے تھے اور نہ بعض صحابہ کی موقوف روایات پر عمل کرنے کے قائل تھے جن سے قنوت الوتر میں ہاتھ اٹھانا مروی ہے۔'' [3]

مندرجہ بالا اقتباس سے واضح ہوتا ہے کہ شیخ بدیع الدین راشدی قیاس، تقلید اور عمل صحابہ کی حجیت کے قائل نہ تھے اور یہی ان مسائل میں ابن حزم کا نقطہ نظر ہے۔ اس کے باوجود مضمون نگار کا ان کے ظاہری مذہب پر عمل پیرا ہونے کا انکار کرنا عجیب ہے جب کہ ان کے شاگرد اس کی صراحت کر چکے ہیں۔ ممکن ہے بعد ازاں وہ اس نسبت کا اظہار نہ کرتے ہوں۔

[3] محمد اسلم سندھی، مجلہ بحر العلوم، میر پور خاص، شیخ العرب و العجم نمبر، مدیر: افتخار احمد تاج الدین الازہری، سلسلہ اشاعت9؛ 2007ء

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت