فهرس الكتاب
طور پر اپنے مقلدوں کو ہدایت فرماتے ہیں کہ قیاس سے بہتر جب کوئی روایت مل جاوے تواس پر عمل کیا جائے لیکن ہم اس کو مخالف مذہب قرار دینے کو فورًا تیار ہو جاتے ہیں تو پھر معلوم نہیں بعض لوگ مخالف مذہب صحیح حدیثوں پر عمل کرنے میں کیوں عذر پیش کرتے ہیں۔'' [1]
اسی طرح حافظ زبیر علی زئی نے لکھا ہے کہ تقلید بلا دلیل کی تمام قسمیں باطل وغلط ہیں ،لیکن تقلید کی یہ قسم انتہائی خطرناک و گم راہی ہے کہ اپنے مسلک کےتمام مسائل کی تقلید کرنا ، چاہے یہ مسائل قران و سنت کے خلاف اور غیر ثابت بھی ہوں۔ اپنے مذہب کے مفتیٰ بہ قول کے مقابلے میں کتاب و سنت و اجماع کو رد کر دینا یہی وہ تقلید ہے جو ممنوع ہے یعنی تقلید یعنی کتاب و سنت کے منافی کسی قول و فعل کو قبول کرنا اور اس پر عمل پیرا ہونا۔ [2]
قیاس وتعلیل؛ ابن حزم اور اہل حدیث
شرعی احکام کی تعلیل اور قیاس کے ضمن میں بھی اہل حدیث مکتبِ فکر کے بعض علما پر ابن حزم کی چھاپ نظر آتی ہے۔ چناں چہ ان کے یہاں بھی ظاہر نصوص سے تمسک کیا جاتا اور علل حکم کو ناقابل اعتبار خیال کیا جاتا ہے ۔ تاہم تمام علما کا یہ موقف نہیں ہے بل کہ اس بحوالے سے اہل حدیث میں دو گروہ ہیں:
پہلا گروہ
ایک گروہ ابن حزم کی روش کے قریب تر ہے۔اس کے سرخیل مولانا ابومحمد بدیع الدین راشدی ہیں جو ایک وقت تک اپنے نام کے ساتھ ظاہری بہ طور نسبت کے لگاتے رہے ہیں۔ اسی طرح ان کی کنیت ابو محمد بھی ابن حزم سے تعلق خاطر کی بنیاد پر ہے۔ان کا مکتبہ جو کہ پاکستان کے بڑے مکتبوں میں ایک ہے، اس کا نام بھی انھوں نے المکتبہ الظاھریۃ اسی نسبت سے رکھا ۔ نیز وہ اپنے قیام حجاز کے دوران حرم مکی میں ابن حزم کی کتاب المحلیٰ کا درس بھی دیا کرتے تھے۔ [3]
شیخ بدیع الدین شاہ راشدی اہل حدیث علما میں شاید وہ واحد شخصیت ہیں جو باقاعدہ ظاہری مسلک سے انتساب کرتے تھے۔ اپنے قیام مکہ کے زمانے میں وہ ابن حزم کی فقہی کتاب المحلیٰ اور اصول فقہ کی کتاب الاحکام فی اصول الاحکام کا باقاعدہ درس دیا کرتے تھے۔ اس زمانے کے ان کے شاگردناصر الحزیمی لکھتے ہیں:
مغرب کے بعدمیں شیخ بدیع الدین کے حلقے میں حاضر ہوتا جہاں وہ المحلیٰ کا درس دیتے تھے۔ بعد ازاں انھیں اس کی تدریس سے روک دیا گیا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ شیخ اس کی تدریس کے دوران مذاہب اربعہ پر تنقید کرتے تھے اور ساتھ ہی ایک
[2] زبیر علی زئی ، دین میں تقلید کا مسئلہ، ص22
[3] شیخ سید بدیع الدین شاہ راشدی کے بھائی سید محب اللہ شاہ راشدی کے پوتے سید انور شاہ بن سید قاسم شاہ راشدی سے مقالہ نگار کا ٹیلی فونک مکالمہ