الصفحة 358 من 389

اہل حدیث مکتب فکر پر ابن حزم کے اثرات

اہل حدیث مکتب فکر پر بھی ابن حزم کے گہرے اثرات ہیں ۔ اس حوالے سے سب سے بڑا مسئلہ تقلید کا ہے ۔یہ بات اہم ہے کہ ابن حزم اور ظاہریہ کے بعد اگر بہ طور مکتب فکرکسی نے تقلید کا کلی رد کیا ہے اور اس کی کسی بھی صورت کو جائز خیال نہیں کیا تو وہ مکتب فکر برصغیر کے اہل حدیث کا ہے۔

دوسرا ابن حزم کا مسئلہ قیاس ہے۔ اس میں اگر بہ نظر غائر اہل حدیث کا جائزہ لیں تو ان کے کبار علما دو حصوں میں تقسیم نظر آتے ہیں:

ایک گروہ قیاس کا قائل ہے اور یہی موقف اہل حدیث کی کتب اصول و مناہج میں اختیار کیا گیا ہے جب کہ دوسرے فریق کے عملی رویوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ قیاس کے منکر ہیں یا پھر استعمال قیاس سے بچتے ہیں۔

ظاہر یہ سے تیسرا بڑا اتفاق نصوص کے ظاہر سے تمسک کا ہے ،اس بارے میں بھی کبار علماے اہل حدیث دو حصوں میں منقسم ہیں۔

تقلید کے بارے میں ابن حزم کا موقف اور اہل حدیث

سطور بالا میں جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے کہ مطلق تقلید کی نفی میں ابن حزم کے مؤقف کے کلی قائلین بہ طور مکتب فکر صرف اہل حدیث ہیں۔ اس لیے مکتب اہل حدیث کے بعض کبار علما کے حوالے درج کیے جاتے ہیں:

سید امام نذیر حسین دہلوی اس حوالے سے رقم طراز ہیں:

'' المختصر تقلید نہ تو کسی آیت قرآنیہ سے ثابت ہے اور نہ کسی حدیث اور نہ کسی امام نے اپنی تقلید کرنے کی اجازت دی ہے۔ رد تقلید میں بہت اچھے اچھے رسائل شائع ہوچکے ہیں، اس کے بطلان کی وجوہ مفصل دیکھنا ہو تو ان رسالوں کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔'' [1]

مزید لکھتے ہیں:

''کیوں کہ تقلید شخصی اور التزام مذہب معین کا کا حکم اور خطاب صادر نہیں ہوا ، پس جس عقیدہ پر خدا اور رسول کا حکم ناطق نہ ہو وہ عقیدہ اور عمل مردود اور قبیح ہوتا ہے۔'' [2]

سید نذیر حسین دہلوی کے شاگرد رشید سید احمد حسن دہلوی تقلید کے بارے میں تحریر کرتے ہیں:

''اب جب کہ امام صاحب یا صاحبین کی کوئی روایت امام معین کی تقلید کے واجب ہونے کے باب میں نہیں ہے بل کہ اس کے خلاف امام صاحب اور صاحبین بالاجماع ضعیف حدیث کو قیاس تک مقدم رکھتے ہیں اور واضح

[2] ایضا، 1؍170

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت