الصفحة 357 من 389

ائمہ مذاھب حضرت امام ابو حنیفہ امام مالک شافعی اور احمد کا دور آتا ہے ان کے ہاں بھی تقلید کی کوئی روش موجود نہیں تھی بل کہ وہ کتاب و سنت اور اجماع کے پیروکار تھے ان سے قطعًا یہ ثابت نہیں ہے کہ انھوں نے کسی ایک مذہب کی آراء کی تعلیم و تعلم کی بنیاد ڈالی ہو بل کہ وہ تو باقاعدہ تقلید کے مخالف تھے اور چیخ چیخ کر کہتے رہے کہ کوئی شخص اس وقت تک ہمارے اقوال کو نہ لے جب تک وہ ہماری دلیل سے واقف نہیں ہے۔ان تفصیلات کےبعد شوکانی مقلدین پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"فالعجب من أهل التقلید کیف یقولون هذا هو الأمر القدیم و علیه ادرکنا الشیوخ، وهو إنما حدث بعد مئتی سنة من الهجرة، و بعد فناء القرون الذین اثنی علیهم الرسول صلی اللّٰه علیہ وسلم و قد عرفت بهذا أن التقلید لم بحدث إلا بعد انقراض خیر القرون، ثم الذین یلونهم و أن حدوث التمذهب بمذاهب الأربعة إن کان بعد انقراض الأئمة الأربعة، وإنهم کانوا على نمط من تقدمهم من السلف في هجر التقلید، و عدم الاعتداد به، وإن هذه المذاهب إنما أحدثها عوام المقلدة لأنفسهم من دون أن یأذن بها إمام من الائمة المجتهدین." [1]

''اہل تقلید پر حیرت ہے کہ کس طرح کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو قدیم معاملہ ہے؛ ہم اپنے شیوخ کو ایسے کرتے دیکھا ہے۔ حالاں کہ یہ200 ھ کے بعد کا مسئلہ ہے کہ جب تک خیر القرون فناہوچکے تھے جن کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تعریفی کلمات ارشاد فرمائے ہیں۔ اس گفت گو سے یقینًا قاری کے سامنے یہ بات واضح ہو گئی ہوگی کہ تقلید کا وجود ہی تاریخ اسلام میں خیر القرون کے بعد کا ہے ۔ اور مذہب اربعہ سے اندھی وابستگی أئمہ اربعہ کے دنیا سے چلے جانے کے بعد سامنے آئی جب کہ وہ خود اپنے سے پیش رو اہل علم و دانش کے انداز فکر پر تقلید کے منکر تھے اور اس کو کوئی وزن نہیں دیتے تھے ۔یہ مذاہب أئمہ کی یاد گار نہیں بل کہ مقلد عوام کا کارنامہ ہیں جسے انھوں نے بغیر کسی امام کی اجازت اور رضامند ی کے اختیار کیا ہے۔''

ان مقدمات سے یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ شوکانی رحم اللہ کس قدر تقلید کے خلاف تھے اور ابن حزم کے نقطہ نگاہ کے پابند تھے اور آپ کا ابن حزم کے طریق فکر سے کس قدر گہرا رشتہ تھا ۔آپ ابن حزم کے علمی پائے کے اس قدر قائل تھے کہ فرمایا کرتے تھے کہ ابن حزم کے بعد ابن تیمیہ کے علاوہ کسی بھی شخص کو ان جیسا عالم نہیں خیال کرتا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت