فهرس الكتاب
پر قیاس کا قائل ہونا بالفاظ دیگر اس کے باقاعدہ ماخذ شرع مستقل ہونےکا انکار ہی ہے ؛یہ بات ظاہر یہ بھی دیگر ناموں تسلیم کرتے ہیں کیوں کہ نص کے بارے میں ان کا نقطہ نگاہ بہ ہر حال بے حد اعتماد اور قبولیت کا ہے۔ حافظ محمد گوندلوی اس سلسلے میں لکھتے ہیں:
''شوکانی نے بھی اس قسم کی راے کا اظہار کیا ہے کہ قیاس کا مطلق انکار تو ممکن نہیں ہے، کیوں کی بعض صورتیں قیاس کی ایسی ہیں کہ جن سےفرار کا کوئی راستہ نہیں ہے ۔ مثلًا یہ کہ علت منصوص ہو ۔،یعنی شریعت نے علت بیان کردی ہو جیسے جیسے کہ ذبح جانور کے بارے میں کیا گیا کہ دانت اور ناخن کے علاوہ ہر چیز سے ذبح کیا جاسکتا ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہر قسم کی ہڈی اور ہمہ قسم کے ناخن سے یہ کام کرنا درست نہیں ہے ۔شوکانی اسے قیاس کا نام دیتے ہوئے علت نصوص والے قیاس کے جواز کے قائل ہیں اور دیگر شکلوں کو ناجائز خیال کرتے ہیں ابن حزم نے بھی اس قسم کے قیاس کا رد کیا ہے اور وہ صرف ناخن اور دانت تک محدود رکھتا ہے۔ گویا شوکانی قیاس کی ان صورتوں کو ناجائز خیال کرتے ہیں جنھیں اہل الرائے درست خیال کرتے ہیں اور جنھیں اہل الظاہر درست خیال کرتے ہیں لیکن قیاس کا نام نہیں دیتے، انھیں شوکانی قیاس کے نام پر قبول کرتے ہیں۔ [1] لہذا فرماتے ہیں جہاں مقیس علیہ اورمقیس میں علت بین اور واضح نہ ہو، صرف اس علت کی وجہ سے جو اپنے قیاس سے سمجھی ہے حکم کو ایک کر دینا درست نہیں ہے کیوں کہ اس سے اختلاف پیدا ہو گا۔ ایک مجتہد کی راے اور ہوگی دوسرے کی اور تیسرے کی اور۔ حالاں کہ شریعت الہی اختلاف کو مٹانے اور ختم کرنے آتی ہے۔'' [2]
ظاہر یہ سے امام شوکانی کی دوسری بڑی مشابہت رد تقلید کے حوالے سے ہے کہ اس بارے میں انھوں نے ایک رسالہ بہ نام'' القول المفید فی ادلۃ الاجتہاد و التقلید'' لکھا ہے جس میں اجتہاد کے اجراء اور تقلید کے رد کے بارے میں بیش قیمت بحث کی ہے اور قائلین تقلید کے دلائل کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ اس رسالے کے آخر میں خلاصے کے طور پر رقم طراز ہیں:
''تقلید کسی کی بات کو کو بغیر حجت شرعی اور دلیل شرعی کے قبول کرنے کا نام ہے اور یہ کیسا علم ہے کہ جس کی بنیاد ہی کسی دلیل پر نہیں ہے۔اس لیے یہ ایک بدعت ہے جو بعد کے ادوار کی پیداوار ہے اور خیر قرون میں اس کا نہ کوئی ثبوت ہے اور نہ اس کا رواج تھا مثلًا صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین کے زمانے میں کسی بھی معروف متعین صحابی کے مذہب کا کوئی وجود نہ تھا کہ جس کی صحابہ اتباع کرتے ہوں۔ ان کے بعد تابعین کا بھی یہی انداز فکر رہا کہ وہ بھی کتاب و سنت یا اجماع صحابہ کے مقتدین اگر یہاں مسئلہ کا حل نہ ملتا تو اجتہاد کرتے ۔ان کے بعد اگلا دور
[2] ایضًا،ص 218