فهرس الكتاب
''انتہائی تعجب کی بات ہے کہ فقہاے مقلدین کی حالت اس قدر قابل رحم ہے کہ اپنے مواقف کی بنیاد اپنے امام کے کمزور ترین مآخذ پر رکھتے ہیں اس قدر کم زور کہ اس کم زوری کو دور کرنے کے لیے ان کے پاس کوئی راستہ بھی نہیں ہوتا، لیکن پھر بھی اس ضعیف رائے کی تقلید پر مصر رہتے ہیں ۔ کتاب و سنت اور قیاس صحیح کو ترک کرنے کے مرتکب ہوتے ہیں جس میں سواے مذہب پر جمود اور تقلید امام کے ان کے پاس کوئی حجت نہیں ہوتی بل کہ کتاب سنت کے ظواہر کو چھوڑنے اور اس کی تاویلات فاسدہ اور باطلہ سے بھی نہیں گھبراتے ۔ میرا مشاہدہ ہے کہ آ ج تک کسی مقلدِ محض کو دوسرے کے پاس حق ثابت ہو جانے کے بعد اپنے امام کےموقف سے رجوع کرتے نہیں دیکھا بل کہ اس کم زور ضعیف اور بعید از حق بات ہی پر اڑے رہتے ہیں۔''
تقلید جامد کے حوالےسے عزبن عبدالسلام کا یہ قول انھیں دلائل اور احساسات سے بھر پور ہے جو ابن حزم کے ہاں پائے جاتے تھے حتٰی کہ ابن حزم کی تحقیقات سے اس قدر متاثر تھے کہ فرماتے ہیں:
"ما رأیت في کتب الإسلام في الإسلام في العلم مثل المحلی لابن حزم والمغنی لابن قدامة." [1]
اسلام کے علمی تراث میں، میں نے محلی ابن حزم اور مغنی ابن قدامہ سے بڑی کتاب نہیں دیکھی۔
محمد بن علی شوکانی پر ابن حزم کے اثرات
متاخرین میں اسلام کی تاریخ میں جو بڑے لوگ گزرے ہیں ان میں امام علی محمد شوکانی بھی شامل ہیں جن کی علمی خدمات میں خصوصًا فتح القدیر ،ارشاد الفحول فی علم الاصول اور نیل الاوطارایسی کتابیں ہیں جن سے اہل علم کبھی بھی بے نیاز ہو نہیں سکتے۔ آپ پہلے شیعہ کے زیدی مکتب فکر سے متاثر تھے لیکن بعد ازاں تمام سلسلوں سے منقطع ہو کر کتاب و سنت کے بلاواسطہ طالب علم بنے اور علمی دنیا میں کار ہاے نمایاں انجام دیے ۔آپ فقہی مسالک میں سے کسی بھی مسلک کی اتباع قائل نہ تھے بل کہ کتاب و سنت اور نصوس شرعیہ کو ہی اوڑھنا بچھوڑنا بنائے رہے۔
ابن حزم کی نادرۂ روزگار شخصیت کے آ پ کی ذات پر یہ اثرات ہیں کہ مصادر شریعت اور مآخذ دین میں ابن حزم کی طرح کتاب و سنت اوراجماع کوہی بطور مآخذ تسلیم کرتے تھے۔ بہ قول ابن زہرہ قیاس کے بہ طور مآخذ شرع ہونے کے قائل نہ تھے، یا کم از کم اس طرح نہ تھے کہ جس طرح اہل الرائے کے ہاں اس کا استعمال ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب ارشاد الفحول میں قیاس کی بحث میں اس بات کا تذکرہ کیا ہے۔ ان کی راے میں قیاس کی وہی شکل درجہ اعتبار کو پہنچتی ہے جس کی علت منصوص ہو، جسے مذہب ظاہریہ کے بانی ابو سلیمان داؤد بن علی الظاہری نے فحواے کلام کے نام سے قبول کیا ہے ۔ کیوں کہ علتِ نصوص کی بنیاد