الصفحة 354 من 389

لوگ قران کریم کی اس آیت کی وعید کے سزاوار ٹھہریں گے۔ [1]

اس روز جب ان کے چہروں کو آگ الٹ پلٹ کیا جائے گا تو کہیں گے ہائے افسوس ہم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے۔ [2]

ائمہ اربعہ نے تقلید سے منع کیا ہے اور ایسے شخص کی مذمت کی ہے جو ان کے اقوال ان کی دلیل کے فہم کے بغیر سمجھے۔ابن قیم مزید کہتے ہیں تعجب تو اس بات پر ہے کہ ائمہ کرام نے اپنی تقلید سے منع کیا ہے اور وہ ان مخالفت کررہے ہیں ان کی نافرمانی کے مرتکب ہیں لیکن پھر بھی کہتے ہیں کہ ہم ان کے مذاہب کے پیروکار ہیں جبکہ حالت یہ ہے کہ اس اصول کی ہی مخالفت کے درپے ہیں جس پر مذہب کی بنیاد ہے۔ وہ ایسے کہ انھوں نے بنائے مذہب حجت اور دلیل پر رکھی ہے اور تقلید سے منع کیا ہے اور یہ وصیت کی ہے کہ جب دلیل واضح ہو جائے تو ان کے اقوال کو ترکرکے دلیل کی اتباع میں لگ جاؤجب کہ ان متعبین نے اس کی مخالفت کی اور نعرہ اتباع ائمہ بھی برابر بلند کررہے ہیں ۔یہ سواے ان کی غلط خواہشات کے اور کچھ نہیں ہے۔

تقلید کی تردید میں اس قدر زور دار انداز ابن قیم کی شخصیت پر ابن حزم اوران کے موقفات کا اثر ہے۔

عزالدین بن عبدالسلام پر ابن حزم کی تاثیر

عز الدین بن عبدالسلام (م660ھ) شافعی مکتب فکر کے کبار علما میں سے ہیں ۔آپ کی نادر ہ دوراں تصنیف قواعد الاحکام مقاصد شریعت کے باب میں مصدر کی حیثیت رکھتی ہے۔ آپ بھی ان شخصیات میں سے ہیں جن پر ابن حزم کے نقوش واضح طور پر دیکھے جاسکتے ہیں خصوصًا مسئلہ تقلید پر ان کی تنقیدات بھی وہی شان رکھتی ہیں جو ابن حزم کے ہاں دیکھی گئی ہیں۔ آپ اس سلسلہ میں رقم طراز ہیں:

"ومِن العجب العجيب أن الفقهاء المقلِّدين يقف أحدهم على ضعفِ مأخذ إمامه، بحيث لا يجد لضَعفه مدفعًا، ومع هذا يقلده فيه، ويترك من الكتاب والسنة والأقيسة الصحيحة لمذهبه جمودًا على تقليد إمامه، بل يتحلَّل لدفع ظواهر الكتاب والسُّنة، ويتأوَّلهما بالتأويلات البعيدة الباطلة نضالًا عن مقلده... وما رأيت أحدًا رجع عن مذهب إمامه إذا ظهر له الحق في غيره، بل يصير عليه مع علمه بضَعفه وبُعده..." [3]

[2] ملخص از اعلام الموقعین ،ص 130

[3] قواعد الاحکام فی مصالح الانام، 2؍ 135

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت