الصفحة 353 من 389

ایسے ہی ابن قیم رحمہ اللہ نے اعلام میں قیاس کی مذمت پر جو گفتگو کی ہے وہ بھی ابن حزم کے فکری اثرات کا نتیجہ ہے؛ اگرچہ ابن قیم قیاس کی تردید میں اس انتہا پر نہیں ہیں جہاں ابن حزم کھڑے ہیں۔ وہ غلو فی القیاس کے شدید ناقد ہیں؛ لہٰذا رقم طراز ہیں:

حرام تقلید کی تین صورتیں ہیں:

اول: خدا کے نازل کردہ احکام کو چھوڑ کر تقلید آباء کی روش اختیار کرنا

دوم:کسی ایسے شخص کی تقلید کرنا کہ جس کا درجہ علم پر فائز ہی ہو نا قابل نزاع ہو یعنی بے علم لوگوں کی اتباع

سوم:قیام حجت کے بعد اور دلیل کے واضح ہوجانے کے بعد مقلد اپنے امام کے قول کے خلاف ہونے کی وجہ دلیل کو رد کرے اور چارہ تقلید پر ہی گامزن رہے۔ ان تینوں قسموں میں بدترین تقلیدی روش کون سی ہے اس کے بارے میں حافظ ابن حزم فرماتے ہیں:

''محرم تقلید کی قسم اول (یعنی تقلید آبا) اور تیسری قسم میں فرق یہ ہے ،وہ تقلید حجت و برکان اور علم کے آنے سے پہلے کی جاتی ہے جب کہ تیسری میں مقلد دلیل و برہان کے واضح ہو جانے کے بعد مرتکب تقلید ہوتا ہے اسی پہ زیادہ مذموم اور معصیت خدا و رسول ہے۔'' [1]

اسی بارے میں ابن قیم لکھتے ہیں:

''مقلد کا مرتبہ یہ ہوتا ہے کہ وہ منزل من اللہ کے بارے میں لاعلم شخصیت کا حامل ہوتا ہے۔ اس لیے جب اس پر اس کے قول کے خلاف حجت واضح کردی جائے لیکن پھر بھی وہ قول امام سے چمٹا رہے تو یہ شخص خواہشات کا پیرو اور غیر ماانزل اللہ کا پجاری ہے کیوں کہ نصوص قرانی اس کے اس رویہ کا ابطال کرتی ہیں ،قران کریم ایسے رویے کے بار ے میں فرماتا ہے:

''کیا تم لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یوں ہی چھوڑ دیے جاؤ گے ،جبکہ اللہ ابھی دیکھا نہیں میں کون لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کے کریم راہ میں جانفشانی کی اور اللہ اور اس کے رسول اور مؤمنین کے علاوہ کسی کو جگری دوست نہیں بنایا ۔'' [2]

اس آیت کے بعد ابن قیم فرماتے ہیں کہ خدا رسول کے خلاف اس سے بڑی جگری دوستی کیا ہے کہ خدا کلام رسول اللہ کے بیان کو ناقابل اعتنا گردان کر کوئی شخص کسی دوسرے کے دامن اطاعت سے وابستہ رہے ۔اگر یہ رویہ یونہی باقی رہا تو یہ

[2] التوبۃ16:9

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت