الصفحة 352 من 389

مطلب اس کی کتاب کی طرف رجوع ہے اور نبی گرامی علیہ السلام کی طرف لوٹنے کا معنی ان کی زندگی میں ان کی ذات اظہر کی طرف رجوع ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی طرف پھرنا ہے۔''

اب جو شخص اس بات سے پہلو تہی کرتاہے اس کے بارے میں ابن قیم کے الفاظ ملاحظہ کیجئے جو بعینہ وہ ہی ہیں اور اس میں تُندی بھی ویسی ہے جو کہ ابن حزم کے کلام میں جگہ جگہ بکھری پڑی ہے، آپ فرماتے ہیں:

"وَمِنْهَا: أَنَّهُ جَعَلَ هَذَا الرَّدَّ مِنْ مُوجِبَاتِ الْإِيمَانِ وَلَوَازِمِهِ، فَإِذَا انْتَفَى هَذَا الرَّدُّ انْتَفَى الْإِيمَانُ؛ ضَرُورَةُ انْتِفَاءِ الْمَلْزُومِ لِانْتِفَاءِ لَازِمِهِ، وَلَا سِيَّمَا التَّلَازُمُ بَيْنَ هَذَيْنِ الْأَمْرَيْنِ فَإِنَّهُ مِنْ الطَّرَفَيْنِ، وَكُلٌّ مِنْهُمَا يَنْتَفِي بِانْتِفَاءِ الْآخَرِ، ثُمَّ أَخْبَرَهُمْ أَنَّ هَذَا الرَّدَّ خَيْرٌ لَهُمْ، وَأَنَّ عَاقِبَتَهُ أَحْسَنُ عَاقِبَةً، ثُمَّ أَخْبَرَ سُبْحَانَهُ أَنَّ مَنْ تَحَاكَمَ أَوْ حَاكَمَ إلَى غَيْرِ مَا جَاءَ بِهِ الرَّسُولُ فَقَدْ حَكَّمَ الطَّاغُوتَ وَتَحَاكَمَ إلَيْهِ، وَالطَّاغُوتُ: كُلُّ مَا تَجَاوَزَ بِهِ الْعَبْدُ حَدَّهُ مِنْ مَعْبُودٍ أَوْ مَتْبُوعٍ أَوْ مُطَاعٍ؛ فَطَاغُوتُ كُلِّ قَوْمٍ مِنْ يَتَحَاكَمُونَ إلَيْهِ غَيْرَ اللّٰهِ وَرَسُولِهِ، أَوْ يَعْبُدُونَهُ مِنْ دُونِ اللّٰهِ، أَوْ يَتْبَعُونَهُ عَلَى غَيْرِ بَصِيرَةٍ مِنْ اللّٰهِ، أَوْ يُطِيعُونَهُ فِيمَا لَا يَعْلَمُونَ أَنَّهُ طَاعَةٌ لِلّٰهِ؛ فَهَذِهِ طَوَاغِيتُ الْعَالَمِ." [1]

''اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع مو جبات ایمان میں سے ہے لہٰذا جب اسے ایمان کے موجبات اور لوازم کا درجہ حاصل ہے تو اس کا مفہوم یہ ہے جب رجوع الی اللہ و رسولہ کی نفی ہوگی تو ایمان کی بھی خود بہ خود نفی ہو جائے گی! کیوں کہ لازم کی نفی سے ملزوم کی خود بہ خود نفی ہو جاتی ہے؛ کیوں کہ تلازم کے لیے ضروری ہے کہ دو طرفہ ہو اور کسی ایک نفی کے ساتھ دوسرا بھی خود بہ خود نفی ہو جائے ۔ اس کے بعد تر غیبًا فرمایا کہ یہ رجوع تمھارے لیے سراسر خیر اور حسن انجام کا ضامن ہے، ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ جس نے رجوع الی اللہ والرسول نہ کیا بل کہ اس نے جو رسول اللہ نہیں لائے اس کی طرف فیصلہ کے لیے رجوع کیا اور اس کے خلاف فیصلہ کیا وہ تحاکم الی الطاغوت کا مرتکب ٹھرا ۔ہر قوم کا طاغوت وہ ہے جس کو خدا کے سوا فصل نزاعات میں فیصل مانا جائے ؛ یا خدا کے علاوہ کسی دوسرے کی عبادت کا دم بھرے ؛یا بغیر فہم و تدبر کے غیر اللہ کی اتباع کی سزاوار ہو یا اس پر اس چیز کی اطاعت کرے جس کے بارے میں اسے علم نہیں ہے کہ یہ اللہ کی اطاعت ہے۔ یہی اس عالم موجود کے طواغیت ہیں۔''

اس عبارت کی تُندی اور سختی سے بہ خوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس پر ابن حزم کی چھاپ کس قدر گہری ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت