الصفحة 351 من 389

نظر کے سامنے آشکار کیا اور تمسک بالسنہ کے فرض سے سبکدوش ہوئے۔ اس سلسلہ میں طلاق ثلاثہ فی مجلس واحد اور دیگر مباحث ابن تیمیہ کے ہاں قا بل مطالعہ ہیں۔

اس ساری تحریک کے دوران ابن تیمیہ کا تردید بدعات میں بعض مقامات پر یوں احساس ہوتا ہے کہ انہوں نے لہجہ بھی ابن حزم سے مستعار لے لیا ہے۔ انھوں نے ابن حزم کی کتابوں کاگہرائی سے مطالعہ کیا، ابن حزم کی طرح تصوف و توسل کے مسائل پر تندوتیز لہجہ میں گفتگو کی اور ا پنی کلام مخالف کے لیے جہالت نا سمجھی وغیرہ جیسے الفاظ ہی استعمال کیے ۔ اگرچہ حافظ ابن تیمیہ نے بعض مسائل میں ابن حزم سے شدید اختلاف کیا مثلًا ان کے قیاس کے بارے میں انتہائی مؤقف کے ابن تمیہ ہمیشہ ناقد رہے ہیں۔صفات باری تعالی کے حوالے سے ابن حزم کا شدید رد کیاہے اورانھیں دیگر بدعتی فرقوں کا ہم نوا ثابت کیا ہے علمی منطق کے حوالے سے ابن حزم کی تفہیمات پر آپ کو شدید تحفظات تھے لیکن اس سب کے باوصف بہ قول احمد امین مصری ، ابن تیمیہ ابن حزم کے روحانی جانشین تھے۔ [1]

حافظ ابن قیم الجوزیہ

حافظ ابن تیمیہ کے بعد ابن حزم کی تاثیر ان کے سب سے ہونہار شاگرد بل کہ وارث علوم ابن تیمیہ حافظ ابن قیم پر بھی بہت واضح دکھائی دیتی ہے۔ خصوصًا اتباع کتاب و سنت، قول بالرائےکی تغلیط اور ردتقلید کے بارے میں جو کچھ انھوں نے لکھا ہے اور جس زور دار انداز میں لکھا ہے اس پر ابن حزم کی گہری چھاپ ہے ۔ ذیل میں ان کے اقتباسات اس کا ثبوت پیش کرتے ہیں، ابن حزم کا یہ بنیادی مؤقف تھا کہ قران و سنت وہ چشمہ صافی اور ایسا آب حیات ہے کہ زندگی کے ہر مسئلہ کا حل خود نصوص قران و سنت میں موجود ہے۔ جب امر واقعہ یہ ہے تو پھر رائے اور قیاس کی راہ اختیار کرنا اتباع ہوائے نفس اور قران و سنت کے کمال کی نفی ہے۔ بالکل اسی انداز کا ایک عنوان حافظ ابن قیم اپنی کتاب اعلام الموقعین میں یوں قائم کرتے ہیں:

"الْأَمْرُ بِالرَّدِّ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْكِتَابَ وَالسُّنَّةَ يَشْتَمِلَانِ عَلَى حُكْمِ كُلِّ شَيْءٍ." [2]

''کتاب و سنت کی طرف رجوع کا حکم اس بات کی دلیل ہے یہ ہر شے کے حکم پر حاوی ہیں، یعنی کتاب و سنت کے بارے میں یہ اعتقاد کہ قران و سنت میں نصاََ سب کچھ موجود ہے اور رائے و قیاس کی کوئی ضروت نہیں ہے۔''

یہ ہی ابن حزم کی تحریک ظاہریت کا بنیادی نعرہ تھا ۔ اس کے ذیل میں اس مؤقف کو کنکریٹ کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:

''اس بات کا یہ مفہوم بھی ہے جس پر لوگوں نے اجماع نقل کیا ہے ،کہ اللہ سبحان وتعالیٰ کی طرف رد کا

[2] اعلام الموقعین عن رب العالمین،1؍39

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت