الصفحة 350 من 389

ہیں۔ آپ شعائر اسلام کی بہت زیادہ تعظیم کرنے والے ہیں۔منصب رسالت نبوی کی عظمت اور آپ کے اقوال جس قدر آپ نے جمع کیے ہیں کوئی آپ کا سہیم و شریک نہیں ہے۔''

حافظ ابن حزم کے بارے میں جس قدر بہترین الفاظ میں تبصرہ ابن تیمیہ نے کیا ہے اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ آپ کے دل وجان سے قدر دان تھے اور آپ کے فکر پر ابن حزم گہری چھاپ تھی ۔اس کے حوالے سے ابن حزم سوانح نگار محمد ابو زہرہ اپنے تاثرات یوں بیان کرتے ہیں:

''ابن تیمیہ ابن حزم کی اُٹھائی ہوئی ضرورت اجتہاد کی دعوت دینے والی لہر کے پختہ ترین ثمر تھے جس نے انسانی فکر کو بے پناہ متاثر کیا۔ ابن تیمیہ کے زمانے کے احوال ظروف اپنے زوال پذیر گونا گوں غیر اسلامی تحریکوں کے حوالے سے قریب قریب وہی تھے جو ابن حزم یا ان کے بعد غزالی کو پیش آئے۔ سیاسی سطح تاتاریوں کی یورشوں نے تمام ماحول میں ایک عجیب سی بے چینی پیدا کر رکھی تھی اور مسلمان سکون کا سانس نہیں لے پار ہے تھے ۔ تزکیہ نفس کی دنیا میں اہل تصوف کا عجمعی رنگ اس قدر گہرا تھا کہ قران اور سنت کا چشمہ انھوں ؎نے گدلا دیاتھا۔ فکری سطح پر حالت یہ تھی مسلمان متکلمین اشراقی فلسفے کو یونانی فلسفے کے نام سے اپنے فکرو بحث میں وہ مقام دے چکے تھے کہ علمی مسلمات کی کوئی تعبیر فلسفہ کے ملمع سے پاک نہیں رہی تھی اور آپ کا آبائی وطن حران قدیم ایام سے فلاسفہ اور صابی لوگوں کا گہوارہ تھا۔ تشریعی افق تقلیدی مذاہب کے علما ء کے ہاتھوں پامال ہورہا تھا۔'' [1]

ان حالات میں ابن تیمیہ جو مکھی لڑائی لڑ رہے تھے انھوں نے تاتاریوں کی یورشوں کے خلاف بھی عملًا جہاد بلند کیا اورخود بہ نفس نفیس مید ان میں اتر آئے ، اور انھیں دمشق سے بے دخل کر دیا اور ان کے درستوری ڈھانچے الیاسق کی قلعی کھولی متعصب اور عممی خیالات سے پُر تصوف کے خلاف تحریک بپا کی اورتحریری سطح پر اور وعظ و نصیحت اور مناظرے کر کے ان کی علمی غلطیوں کو نہ صرف واضح کیا بل کہ قرآن سنت سے ماخوذ تصوف اور اصول تزکیہ احسان کی نشاندہی بھی کی اور زندگی میں برت کر بھی دکھلایا۔ فلسفہ اور کلام کے سلسلہ میں آپ کی خدمات اس قدر تہ دارار اور معرکۃ الآراء ہیں کی اس سے قبل اور اس کی نظیر پیش کرنا ممکن نہیں ہے ۔آپ نے فلسفہ کی سطح پر دو کام کیے ؛ایک یہ کہ یونانی فلسفہ کے نام پر جو لوگ اسلامی عقائد کے دروبست فلسفیانہ دلائل سے تاثر کی بنیاد باندھ رہے تھے اور خدا پر ایمان لانا اور اس کو سمجھنا ایک علمی المیہ بن گیا ،آپ نے ان کے سامنے نہ صرف یہ واضح کیا جس فلسفے کو تم یونانی فلسفہ سمجھ کر حرز جان بنائے ہوئے ہو یہ یونانی ہے ہی نہیں بل کہ اشراقی فلسفہ ہے اور پھر یونانی فلسفے کو ان کے اصل مصادرپڑھنے کے بعد ا س کے تاروپود بکھیر دیے۔

ایسے ہی تقلیدی جمود کی بھی شدید مخالفت کی اور قران و سنت سے تمسک کی ایک زوردار تحریک چلائی ۔تقلید کی روش جس کی وجہ سے اسلام کی خوبصورت تعلیمات آراء واوقوال آئمہ کی دبیز تہوں کے نیچے دب چکی تھیں انھیں دوبارہ سے فکرو

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت