فهرس الكتاب
استعمال نہ کیا جائے بلکہ یہ وقتی ضرورت ہی ہو البتہ احناف کا اس سلسلہ میں نظریہ جمہور اہل علم سے مختلف ہے وہ تقریبا اجتہاد کے دروازے کو بند خیال کرتے ہیں ان کا نقطہ نظر یہ ہے کہ امت میں مجتہد مطلق کے پیدا ہونے کے امکانات ختم ہو چکے ہیں۔بس متعین مذہب کی تفصیل تشریح متاخرین علماء کی ذمہ داری ہے کہ ان کے دلائل کا کھوج لگایااورایسے اصول ترتیب دیے جاییں جو اس مذہب کے فروغ میں وسعت کا جائزہ لیں وغیرہ ۔
احناف کا نقطہ نگاہ نظری سطح پر تو یہی ہے، البتہ عملًا کیوں کہ کارگار حیات میں اجتہاد کے بغیر امت کو ہر دور میں رہنمائی فراہم کرناناممکن ہے اس لیے ان کے علما بھی تقلید کے نام پر اجتہاد کرتے رہتے ہیں۔خلاصہ یہ ہے کہ ابن حزم کے ہاں جو باب اجتہاد کھلا ہے امت بہرحال عملًا اسی پر گامزن ہے البتہ کچھ اس کو اصولًا ہی درست خیال کرتے ہیں جبکہ دیگرعملا برتتے رہتے ہیں لیکن اصولًا موقوف خیال کرتے ہیں۔
نصوص کتاب و سنت سے تمسک
ابن حزم کے نظریہ اجتہاد سے جو رہنما اصول فکر و نگاہ کے سامنے آشکار ہوتے ہیں ان میں سے ایک بہت بڑا اصول کتاب وسنت کے نصوص سے گہری وابستگی ہے اور صرف کتاب وسنت کے نصوص کو ہی دین کے ہر مسئلہ میں پہلا اور آخری حل اور دلیل سمجھا جائے۔ قیاس اور استحسان جیسے اصولوں کو وہ یک سرنظر انداز کرتے ہیں نیزہ دعوت دیتے ہیں کہ یہ کم ہمتی کی بات ہے کہ قرآن و سنت کے نصوص کو محدود خیال کرکے تعلیل کا سہارا لے کر تفریعات کے انبار لگائے جائیں۔ وہ اس سلسلہ میں لکھتے ہیں:
"فی دِينُ الْإِسْلَامِ اللَّازِمُ لِكُلِّ أَحَدٍ لَا يُؤْخَذُ إلَّا مِنْ الْقُرْآنِ أَوْ مِمَّا صَحَّ عَنْ رَسُولِ اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم إمَّا بِرِوَايَةِ جَمِيعِ عُلَمَاءِ الْأُمَّةِ عَنْهُ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - وَهُوَ الْإِجْمَاعُ، وَإِمَّا بِنَقْلِ جَمَاعَةٍ عَنْهُ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - وَهُوَ نَقْلُ الْكَافَّةِ. وَإِمَّا بِرِوَايَةِ الثِّقَاتِ وَاحِدًا عَنْ وَاحِدٍ حَتَّى يَبْلُغَ إلَيْهِ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - وَلَا مَزِيدَ. قَالَ تَعَالَى: {وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى} [1] {إِنْ هُوَ إِلا وَحْيٌ يُوحَى} [2] وَقَالَ تَعَالَى: اتَّبِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ وَلا تَتَّبِعُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ [3] وَقَالَ تَعَالَى: {الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ} ." [4]
[2] النجم: 4
[3] الأعراف: 3
[4] المائدة: 3،المحلى،1-72