الصفحة 371 من 389

دین اسلام کے بارے میں ہر ایک پر لازم ہیں کہ ہو صرف قرآن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح مروی روایت سے اخذ کرے ایسی روایت جسے تمام علمائے امت روایت کریں جسے اجماع کہا جاتا ہے یا ایک جماعت نقل کرے جسے نقل الکافہ ( یعنی متواتر روایت) کہتے ہیں یا پھر ثقات ایک دوسرے سے روایت کرے یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ جائے اس کے سوا دین اسلام کچھ بھی نہیں ہے جبکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

{وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ }

''وہ رسول اپنی خواہش سے گفتگو نہیں کرتے بلکہ وہی کہتے ہیں جو ان کی طرف وحی کی جاتی ہے۔''

ایسےارشادربانی ہے:

{اتَّبِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ} [1]

''تم اس کی پیروی کرو جو تمہارے رب کی جانب سے نازل کیا گیا اور اس کے علاوہ کسی کی بھی اتباع مت کرو۔''

اس اقتباس سے معلوم یہ ہوتا ہے کہ وہ ماخذ دین صرف اور صرف کتاب و سنت کو مانتے ہیں اور اس کے علاوہ کسی بھی شے قیاس وغیرہ کو ماخذ دین تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں،اسی لیے فرماتے ہیں کہ جب قرآن وسنت کینصوص ہمیں متعارض معلوم ہوں تو ہماراپہلا فرض یہ ہی ہے کہ ان پر عمل کیا جائے اس سلسلہ میں تحریر فرماتے ہیں

"فَإِنْ تَعَارَضَ فِيمَا يَرَى الْمَرْءُ آيَتَانِ أَوْ حَدِيثَانِ صَحِيحَانِ، أَوْ حَدِيثٌ صَحِيحٌ وَآيَةٌ، فَالْوَاجِبُ اسْتِعْمَالُهُمَا جَمِيعًا، لِأَنَّ طَاعَتَهُمَا سَوَاءٌ فِي الْوُجُوبِ، فَلَا يَحِلُّ تَرْكُ أَحَدِهِمَا لِلْآخَرِ مَا دُمْنَا نَقْدِرُ عَلَى ذَلِكَ." [2]

''اگر انسان کے زاویہ نگاہ میں اسے دو آیاتیا دو احادیثیا ایک آیت اور حدیث صحیح میںتعارض دکھائی دے رہا ہے واجب ہے کہ شرعی کے طور پر دونوں پر عمل کیا جائے کیونکہ ان دونوں کی اطاعت برابری کی سطح پر واجب ہے اور ہمارے لئے یہ روا نہیں ہے کہ ایک کو دوسری کے مقابلے میں ترک کرد یں جب تک ہماری ہمتیں جواب نہیں دیتیں ۔''

یہاں ابن حزم اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ قرآن و سنت میں سے کسی نص کو اس بنیاد پر ترک کردینا کہ یہ کسی دوسری نص کے متعارض ہے درست نہیں،بلکہ جہاں تک بن پڑے یہ کوشش کی جائے کہ ان دونوں نصوص پر عمل کیا جائے ۔

[2] المحلی،1؍72

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت