فهرس الكتاب
کیوں کہ نص شریعت ہونے کی وجہ سے اور دین ہونے کے باعث برابری کا درجہ رکھتی ہیں۔ ابن حزم کا قرآن و سنت سے اس قدر گہرا تعلق ہے کہ وہ ماخذ شریعت اور دلیل شرعی کے طور پر کتاب وسنت کے علاوہ کسی دوسری دلیل کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ان کا مرجع و ماوی بس خدا کا کلام آقائے نامدار کا فرمان ہے اس سے آگے بڑھنے کے لیے وہ کسی طرح بھی تیار نہیں ہیں لہذاالمحلی میں فرماتے ہیں:
"وَلَا يَحِلُّ الْقَوْلُ بِالْقِيَاسِ فِي الدِّينِ وَلَا بِالرَّأْيِ لِأَنَّ أَمْرَ اللّٰه تَعَالَى عِنْدَ التَّنَازُعِ بِالرَّدِّ إلَى كِتَابِهِ وَإِلَى رَسُولِهِ صلی اللّٰه علیہ وسلم قَدْ صَحَّ، فَمَنْ رَدَّ إلَى قِيَاسٍ وَإِلَى تَعْلِيلٍ يَدَّعِيه أَوْ إلَى رَأْيٍ فَقَدْ خَالَفَ أَمْرَ اللّٰه تَعَالَى الْمُعَلَّقَ بِالْإِيمَانِ وَرَدَّ إلَى غَيْرِ مَنْ أَمَرَ اللّٰهُ تَعَالَى بِالرَّدِّ إلَيْهِ، وَفِي هَذَا مَا فِيهِ. قَالَ عَلِيٌّ: وَقَوْلُ اللّٰه تَعَالَى: {مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ} [1] وقَوْله تَعَالَى: {تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ} [2] وقَوْله تَعَالَى {لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ} [3] قَوْله تَعَالَى: {الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ} [4] إبْطَالٌ لِلْقِيَاسِ وَلِلرَّأْيِ؛ لِأَنَّهُ لَا يَخْتَلِفُ أَهْلُ الْقِيَاسِ وَالرَّأْيِ أَنَّهُ لَا يَجُوزُ اسْتِعْمَالُهُمَا مَا دَامَ يُوجَدُ نَصٌّ، وَقَدْ شَهِدَ اللّٰه تَعَالَى بِأَنَّ النَّصَّ لَمْ يُفَرِّطْ فِيهِ شَيْئًا، وَأَنَّ رَسُولَهُ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - قَدْ بَيَّنَ لِلنَّاسِ كُلَّ مَا نُزِّلَ إلَيْهِمْ، وَأَنَّ الدِّينَ قَدْ كَمُلَ فَصَحَّ أَنَّ النَّصَّ قَدْ اسْتَوْفَى جَمِيعَ الدِّينِ، فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ كَذَلِكَ فَلَا حَاجَةَ بِأَحَدٍ إلَى قِيَاسٍ وَلَا إلَى رَأْيِهِ وَلَا إلَى رَأْيِ غَيْرِهِ." [5]
''ہمارے لیے حلال ہی نہیں ہے کہ دین میں رائے اور قیاس سےگفتگوکریں کیوں کہ اللہ رب العزت نےتنازعات میں اپنی کتاب اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کا حکم دیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان معیار صحت پر پورا اترتا ہو۔ لہذا جس شخص نے قیاس علت اور رائے کی جانب تنازعات میں رجوع کیا اس نے اللہ کے اس فرمان کی مخالفت کی جو متعلق بالایمان ہے ( جس کی بنیاد پر ایمان کا ثبوت اورعدم ثبوت لازم آتا ہے ) اور اللہ کے حکم کے علاوہ کسی دوسرے کی طرف رجوع کیا تو اس بارے میں اس کا وھی حکم ہے جو اس آیت میں بیان ہوا ہے علی کہتے
[2] النحل: 89
[3] النحل: 44
[4] المائدة: 3
[5] المحلی،1؍78