فهرس الكتاب
ہیں اللہ کا فرمان '' اس نے کوئی بھی چیز کتاب میں سے چھوڑی نہیں ہے'' اور باری تعالی کا قول '' آج میں نے تمھارے لیے دین کی تکمیل کردی ہے '' میں قیاس اور رائے کا ابطال کیا گیا کیوں کہ اہل رائے اور اہل قیاس میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اور ان دونوں کا استعمال اس وقت تک درست نہیں جب تک نص موجود ہو جب کہ نص کے وجود کے بارے میں اللہ رب العزت نے شہادت دی ہے کہ '' کوئی بھی چیز نظر انداز نہیں کی گئی ۔ اور رسول گرامی قدر نے لوگوں کے لیے ہر نص قرانی کی وضاحت بھی بیان کردی ہے اور دین اپنی پوری جامعیت سے مکمل ہوگیا لہذا یہ کہنا درست ہوا کہ نص پورے دین کو اپنے اند سموئے ہوئے ہے اس کے دائرہ کمال سےکچھ بھی خارج نہیں ۔ جب یہ سب کچھ ایسے ہی ہے جیسے ہم بیان کرچکے ہیں تو پھر نہ کسی قیاس کی حاجت رہ جاتی ہے اور نہ رائے زنی کی ۔''
ابن حزم کے اس بیان کے بعد یہ بات پورے شرح و بسط سے واضح ہو جاتی ہے کہ ابن حزم فقط تمسک نصوص کتاب و سنت کے داعی ہیں اس کے علاوہ کسی بھی چیز کو بھی وہ دین یا ماخذ دین کے طورپر قبول کرنے کے لیے تیار نہیں بل کہ اسے حرام خیال کرتے ہیں اور اس روش کو ایمان کے بھی منافی سمجھتے ہیں۔ جیسا کہ درج بالا اقتباس سے ظاہر ہوا ہے۔
جمہور اہل علم بھی کتاب وسنت کو ہی ماخذ دین شمار کرتے ہیں اور قرآن و سنت کے بارے میں اسی ایمان و ایقان کا اظہار کرتے ہیں جو ابن حزم کے ہا ں ہے لیکن وہ تعلیل نصوص کے قائل ہیں اور قیاس کے استعمال کو درست خیال کرتے ہوئے اسے شریعت کی معنویت کا ہی پر تو خیال کرتے ہیں ،البتہ اس کے حوالے سےفقہائے امت کے درمیان دو رویے پائے جاتے ہیں ۔ ایک یہ کہ قیاس کو صرف اسی صورت میں ہی استعمال کیاجاے جب اسکی علت منصوص ہو ورنہ اس کے استعمال سے پرہیز کیا جائے جب کہ مالکیہ اورحنابلہ قیاس کو بہت وسعت کے ساتھ اجتہادی علل کے استنبا ط کے ساتھ میں استعمال کرنے کے قائل ہیں جس سے سب سے بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ کسی ایک حکم کی کئی ایک علتوں کی بنیاد پرمختلف قسم کے نتائج کے سبب فقہی ذخیرہ کا ایک حصہ چیستاں کی کیفیت اختیار کرگیاہے۔
اس سلسلہ ابن حزم کا منھج اگرچہ بے حد محنت طلب اور بے پناہ جگر کاوی کا متقاضی ہے لیکن محفو و مأمون راستہ وہ ہی ہے جس میں بلا واسطہ قرآن وسنت سے ہی ہرمسئلہ میں رہ نمائی لی جائے۔
دلیل کی پیروی کے رجحان کی آبیاری
ابن حزم اور جمہور کے اصول اجتہاد کے مطالعہ سے جو شے بہت نکھر کر سامنے آتی ہے وہ دلیل کی اتباع اور پیروی کا بے پناہ رجحان ہے ۔اگرچہ جمہور فقہاء حنابلہ ، شوافع ، مالکیہ اور احناف بھی دلیل کی اتباع کے ہی قائل اور داعی ہیں لیکن قرآن و سنت کے دلائل کے علاوہ ان کے ہاں دلیل کے مآخذ کافی تعداد میں ہیں ۔جبکہ ابن حزم کا دلائل قرآن و سنت کے حوالے سے جو نکتہ نظر ہے وہ مختلف اور منفرد ہے ۔کہ وہ نصوص شرعیہ کے آجانے کے بعد اور کسی دلیل کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں