الصفحة 374 من 389

کرتے۔اس لئے شریعت کے مصادر کے حوالے سے جو منھجی استقامت ابن حزم کے ہاں نظر آتی ہے وہ دیگر مذاہب میں بہت کم ہے ۔

اہل علم کے ہاں یہ بات معروف ہے کہ ابن حزم الظاہری رحمہ اللہ ابو سلیمان علی بن داؤد الظاہری رحمہ اللہ کے مؤقف پر تھے اور ان کے اصولی مؤقف سے آپ کو اتفاق تھا۔اگرچہ خود ابن حزم مجتہد مطلق تھے جس کا مشاہدہ ان کی کتا ب " المحلیٰ" اور " الاحکام فی اصول الأحکام " سے بہ خوبی ہوتا ہے ۔علی بن داؤد کی بے پناہ قدر کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ ہم انہیں اپنے شیوخ میں تسلیم کرتے ہیں لیکن ہم ان کی تقلید کے مطلق قائل نہیں بل کہ مجتہد ہیں اور آپ اس دعویٰ میں حق بہ جانب ہیں۔داؤد بن علی کے اس قدر احترام کے باوصف آپ دلیل کے پیرو تھے ۔اور دلیل کی بنیا د پر کسی کے مذہب کی تائید اور مخالفت سے نہ گھبراتے تھے ۔ دیگر مذاہب کے آئمہ سے اختلاف اور اس میں جارحانہ رویہ تو آپ کے ہاں بہ کثرت نظر آتا ہے۔لیکن دلیل کی بنیاد پر آپ خود امام داؤد اور دیگر فقہائے مذہب سے بھی اختلا ف کرتے ہیں ،جس کی بیسیوں امثلہ " المحلیٰ " میں بکھری پڑی ہیں ۔اور کچھ محققین نے اس پر کام بھی کیا ہے ۔ذیل میں ہم چند امثلہ ان کے دلیل کے پیرو ہونے کی اور اپنے مذہب سے اختلاف کی بھی واضح کرتے ہیں ۔نیز جن مذاہب کے آپ ناقد ہیں دلیل کی بنیاد پر آپ ان سے کہاں کہاں اتفاق کرتے ہیں وہ بھی واضح کیا جاتا ہے ۔

نبئ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہ سب و شتم کے مرتکب کے بارے میں ظاہریہ کا خیال یہ ہے کہ اس کے بارے میں توقف کیا جائے گا۔ جبکہ ابن حزم رحمہ اللہ کی رائے کے مطابق اس سلسلہ میں ظاہریہ کا مؤقف دلائل قرآن و سنت کے منافی ہے اس لئے اس کی تردید کی ہے اور دیگر فقہاء کی صف میں کھڑے نظر آتے ہیں ۔جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ان کے ہاں اہمیت دلیل کی ہے ۔نہ کہ اس جماعت یا گروہ کی جو فکری سطح پر ان کاہمنوا ہے۔اس کے متعلق " المحلیٰ " میں تحریر کرتے ہیں:

"مَنْ سَبَّ رَسُولَ اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم أَوْ اللّٰهَ تَعَالَى، أَوْ نَبِيًّا مِنْ الْأَنْبِيَاءِ، أَوْ مَلَكًا مِنْ الْمَلَائِكَةِ، أَوْ إنْسَانًا مِنْ الصَّالِحِينَ، هَلْ يَكُونُ بِذَلِكَ مُرْتَدًّا - إنْ كَانَ مُسْلِمًا - أَمْ لَا؟ وَهَلْ يَكُونُ بِذَلِكَ نَاقِضًا لِلْعَهْدِ - إنْ كَانَ ذِمِّيًّا - أَمْ لَا؟ قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ: اخْتَلَفَ النَّاسُ فِيمَنْ سَبَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - أَوْ نَبِيًّا مِنْ الْأَنْبِيَاءِ، مِمَّنْ يَقُولُ: إنَّهُ مُسْلِمٌ: فَقَالَتْ طَائِفَةٌ: لَيْسَ ذَلِكَ كُفْرًا.وَقَالَتْ طَائِفَةٌ: هُوَ كُفْرٌ، وَتَوَقَّفَ آخَرُونَ فِي ذَلِكَ: فَأَمَّا التَّوَقُّفُ فَهُوَ قَوْلُ أَصْحَابِنَا." [1]

''جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، اللہ تعالی یا انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک کو یا کسی فرشتے کو یا کسی صالح شخص

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت