الصفحة 375 من 389

کو گالی دی تو کیا اگر وہ مسلما ن تھا تو اس عمل سے مرتد ہوجائے گا یا نہیں ۔ایسے ہی اگر وہ ذمی ہے تو اس کا عہدٹوٹ جائے گا یا نہیں ۔ابن حزم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اہل علم کا شاتم رسول اور شاتم انبیاءکے کفر کے بارے میں اختلاف ہے ۔ایک گروہ کا خیال ہے کہ وہ مسلمان ہے۔ایک جماعت کہتی ہے یہ عمل کفر نہیں ہے جبکہ اہل علم کی بڑی تعداد اسے کفر خیال کرتی ہے ۔البتہ ہمارے اصحاب (اہل ظاہر ) اس بارے میں توقف اختیار کرتے ہیں ۔''

اس قول سے علم ہوتا ہے کہ اہل ظاہر اس شخص کے کفر اور اسلام کے بارے میں خاموش ہیں جس سے ایک بات بہرحال واضح ہوتی ہے کہ وہ کفر نہیں مانتے جس پر ابن حزم رحمہ اللہ نے رد کیا ہے اور اس قول کوترجیح دی ہے کہ شاتم رسول کافر اور مرتد ہے جس کو قتل کردیا جائے گا۔آپ رقم طراز ہیں:

"فَإِذْ قَدْ سَقَطَ هَذَا الْقَوْلُ فَالْوَاجِبُ أَنْ نَنْظُرَ فِيمَا احْتَجَّتْ بِهِ الطَّائِفَةُ الْقَائِلَةُ إنَّ مَنْ سَبَّ رَسُولَ اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم أَوْ نَبِيًّا مِنْ الْأَنْبِيَاءِ، أَوْ مَلَكًا مِنْ الْمَلَائِكَةِ - عَلَيْهِمْ السَّلَامُ - فَهُوَ بِذَلِكَ الْقَوْلِ كَافِرٌ - سَوَاءٌ اعْتَقَدَهُ بِقَلْبِهِ أَوْ اعْتَقَدَ الْإِيمَانَ بِقَلْبِهِ." [1]

''جب یہ قول (کہ شاتم رسول کافر نہیں ) دلائل کی رو سے ساقط الاعتبار ہے تو ضروری ہے کہ ہم انہی دلائل کو حجت تسلیم کریں کہ جو شخص شاتم رسول ، شاتم انبیاء یا شاتم ملائکہ ہے وہ اس وجہ سے کافر ہوجاتا ہے ۔برابر ہے کہ وہ اس بات کا اعتقاد رکھے یا پھر وہ یہ سمجھے کہ وہ ایمان کو دل سے قبول کرتا ہے ۔''

اس مثال سے معلوم ہوتا ہے کہ ابن حزم رحمہ اللہ دلیل کے پیرو ہیں نہ کہ کسی خاص مذہب کی صداقت کے علمبردار۔

مزدلفہ میں ایک اقامت سے جمع صلاتین

ایسے ہی امام ابن حزم رحمہ اللہ نے دلیل کی بنیاد پر ابوبکر بن داؤد جو کہ فقہائے ظاہریہ میں سے ہیں ان کی اس رائے کہ مزدلفہ میں دو نمازوں کو ایک اقامت کے ساتھ جمع کیا جا سکتا ہے اس کی مخالفت کی ہے۔داؤد بن علی کے اس مؤقف کو بھی دلیل کی وجہ سے ترک کردیا ہے کہ جب کوئی شخص مرتد ہوجائے اور بعد از ارتداد اعادہ اسلام کرے تو اس کو حج دوبارہ ادا کرنا ہوگا ۔

امام داؤد کے اس مؤقف سے بھی آپ شدید اختلا ف رکھتے ہیں کہ بچے کا اسلام صرف والد کے اسلام سے ہوگا ورنہ اس کے اسلام کا اعتبار نہیں کیا جائے گا ۔

نیز رضاعت سے بچپن میں ہی حرمت ثابت ہوتی ہے ، دوسالوں کے بعد رضاعت سے تحریم ثابت نہیں ہوتی، طلاق ثلاثہ کو بہ لفظ واحد تین کی نیت سے دیا جائے تو طلاق واقع ہوجاتی ہے ، غلام کے لئے تعدد زواج ،صرف ولی کی منشا سے جواز نکاح کاثبوت اور فرائض کیا ہیں ۔ ان تمام مسائل میں داؤد بن علی کے مذہب کی مخالفت کی ہے اور دلیل کے پیرو کے طور پر سامنے

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت