الصفحة 376 من 389

آئے ہیں ۔

لہذا ابن حزم رحمہ اللہ نےدلیل کی پیروی کے رجحان کو بہت تقویت دی ہےاگرچہ جمہور کا بھی عمومی مذہب یہی ہے اور وہ اسی کے قائل ہیں ۔لیکن وہاں قیاس اور استحسان کو بھی دلیل کا درجہ حاصل ہے جبکہ ابن حزم رحمہ اللہ صرف کتاب و سنت کو یہ مقام دینے کے روادار ہیں ۔

تیسیر اور عدم حرج

ابن حزم رحمہ اللہ اورجمہور کے مناہج اجتہاد میں جو بات انتہائی طور پر متفق ہے وہ تیسیر کا مہیا کرنا اور حرج سے بچانا ہے ۔اس سلسلہ میں ابن حزم رحمہ اللہ کے مؤقف میں بے حد توسع ہے جو دیگر مناہج اجتہاد میں نظر نہیں آتی ۔اگر چہ دیگر فقہاء کا یہ دعوی ہے کہ قیاس و تعلیل آسانی اور تیسیر فراہم کرتے ہیں ۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ ابن حزم رحمہ اللہ کے نظریہ میں توسع زیادہ ہے ۔جس کی بنیاد ابن حزم رحمہ اللہ کے اس اصول پر ہے کہ حرام چیزیں فقط وہ ہیں کہ جن کی حرمت نص میں آگئی ہے بقیہ تمام اشیاء اصلًا حلال ہیں الا کہ کوئی دوسرا سبب شرعی آڑے آ جائے ۔اس سلسلہ میں وہ المحلی میں ایک بحث بھی بڑی تفصیل سے کرتے ہیں کہ بعض اجناس میں اور سونے چاندی میں کمی بیشی لین دین میں سود ہے ۔اس بارے میں ابن حزم رحمہ اللہ کا خیال یہ ہے کہ انہیں اشیا ء میں کمی بیشی کے ساتھ خریدو فروخت میں سود داخل ہوتا ہے جن کا ذکر نص میں آگیا ہے ۔دیگر اشیاء جس طرح بھی زیادتی یا کمی سے فروخت کی جائیں ان کافروخت کرنا جائز اور سود سے پاک ہے ۔آپ لکھتے ہیں کہ:

"وَالرِّبَا لَا يَجُوزُ فِي الْبَيْعِ، وَالسَّلَمِ إلَّا فِي سِتَّةِ أَشْيَاءَ فَقَطْ: فِي التَّمْرِ، وَالْقَمْحِ، وَالشَّعِيرِ، وَالْمِلْحِ، وَالذَّهَبِ، وَالْفِضَّةِ - وَهُوَ فِي الْقَرْضِ فِي كُلِّ شَيْءٍ،فَلَا يَحِلُّ إقْرَاضُ شَيْءٍ لِيُرَدَّ إلَيْك أَقَلَّ وَلَا أَكْثَرَ، وَلَا مِنْ نَوْعٍ آخَرَ أَصْلًا، لَكِنْ مِثْلُ مَا أَقْرَضْت فِي نَوْعِهِ وَمِقْدَارِهِ عَلَى مَا ذَكَرْنَا فِي"كِتَابِ الْقَرْضِ"مِنْ دِيوَانِنَا هَذَا فَأَغْنَى عَنْ إعَادَتِهِ وَهَذَا إجْمَاعٌ مَقْطُوعٌ بِهِ."

وَالْفَرْقُ بَيْنَ الْبَيْعِ وَالسَّلَمِ، وَبَيْنَ الْقَرْضِ، هُوَ أَنَّ الْبَيْعَ وَالسَّلَمَ: يَكُونَانِ فِي نَوْعٍ بِنَوْعٍ آخَرَ، وَفِي نَوْعٍ بِنَوْعِهِ، وَلَا يَكُونُ الْقَرْضُ إلَّا فِي نَوْعٍ بِنَوْعِهِ وَلَا بُدَّ - وَبِاَللّٰه تَعَالَى التَّوْفِيقُ.

وَكَذَلِكَ الَّذِي ذَكَرْنَا مِنْ وُقُوعِ الرِّبَا فِي الْأَنْوَاعِ السِّتَّةِ الْمَذْكُورَةِ فِي الْبَيْعِ وَالسَّلَمِ، فَهُوَ إجْمَاعٌ مَقْطُوعٌ بِهِ." [1] "

''بیع اور سلم میں ربا صرف چھ اشیاءکھجور ، گندم ، نمک ، چاندی سونا اور جو میں ہے البتہ قرض کی حالت میں تمام چیزوں میں ہوگا۔لہذا کسی بھی چیز میں قرض اس طرح دینا کہ اس کی واپسی کم یا زیادہ ہوگی یہ حرام ہے ۔جیسے ہم

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت