الصفحة 377 من 389

نے تفصیل کے ساتھ کتاب القرض میں ذکر کیا ہے جس کے اعادہ کی ضرورت نہیں اور اس مسئلہ پہ قطعی اجماع ہے ۔ ''

بیع سلم اور قرض میں فرق یہ ہے کہ بیع سلم میں ایک جنس کے مال کے بدلے دوسری جنس کی چیز خریدی یا فروخت کی جا سکتی ہے جبکہ قرض میں ضروری ہے کہ اُسی نوع کی ہو ایسے ہی وہ چھ اشیاء ہی جن میں کمی بیشی اور تبدیلی جنس بیع اور سلم دونوں ربا ہے اور یہ ایک اجماعی اور قطعی فیصلہ ہے ۔ اس کے علاوہ دیگر اشیاء میں بیع اور سلم میں کمی بیشی ییا تبدیل جنس پر سود واقع ہوتا ہے یا نہیں یہ اختلافی مسئلہ ہے۔

ابن حزم رحمہ اللہ نے سود کے سلسلہ میں شریعت کا اصول واضح کر دیاہے کہ یہ تجارت سلم اور قرض میں ہوتا ہے۔قرض میں کسی قسم کی کمی بیشی اور تبدیلی جنس پرہر حال میں سود ہے جبکہ بیع اور سلم میں سود صرف انہی چھے چیزوں میں ہے جن کا ذکر نص نبوی میں آ گیا ہے دیگر اشیاء اس میں شامل نہیں ہے جس سے یہ بات سامنےآتی ہے کہ ابن حزم کے مؤقف میں وضاحت بھی ہےا ور تیسیر بھی ،کہ ایک بالکل دو ٹوک ہےا ور دوسرا سود اور حرمت کے مسایل کولامتناہی بنیادوں پر توسیع نہیں دی گیی۔

جبکہ دیگر فقہائے مذاہب نے اس مسئلہ میں مشکل پیدا کر دی ہے ایک یہ کہ حرمت اور سود کے مسئلہ کو بہت وسعت دے کر اجناس میں ہر چیز پھل اور سبزیاں وغیرہ شامل کر دی ہیں،دوسرے یہ کہ مؤقف اس قدر پیچیدہ ہے کہ قریب قریب نا قابل فہم ہے اور جگہ جگہ یہ قائم کردہ ضوابط ٹوٹ جا تے ہیں۔

توسع تحریم کے لیے ضروری تھا کہ ان حرام کردہ اجناس کی علت معلوم کی جاتی اور پھر اسے اجناس میں ثابت کر کے ان کے بھی لین دین میں کمی بیشی اور تبدیلی جنس پر سود کا حکیم ٹرانسفر کیا جاتا،فقہاء نے علت کے تعین میں جس بوقلمونی کا اظہارکیا ہے وہ قابل دید ہے کہ جو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو تقریبًا دس کے قریب علل بن جاتی ہیں جس میں لطف کی بات یہ ہے کہ ہر ایک دوسرے فقہیہ کی متعین کردہ علت کے ابطال پر دلائل کے انبار لگا رہے ہیں جس سے یہ مسئلہ ایک چیستان کی شکل اختیار کر گیا ہے اس میں اگر تمام فقہاء کی آراء کا اعتبار لیا جائے شاہد ہی کوئی چیز بچے کی جس میں سود نہ ہو اور اس کی مروجہ تجارت سو د سے پاک ہو ۔نیز پھر اس سے شریعت میں موجود آسانی کا بھی گلا گھونٹ دیا گیا ہے ا۔س لیے ابن حزم کا مؤقف جمہورکی نسبت سہل بھی ہے اور واضح بھی،ابن حزم رحمہ اللہ نے فقہاء کی تعلیلات کے مسئلہ پر تفصیل سے رد کیا ہے اور آخر میں اپنے نتائج فکربیان کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:

"فَإِذَا أَحَلَّ اللّٰه تَعَالَى الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا فَوَاجِبٌ طَلَبُ مَعْرِفَتِهِ لِيُجْتَنَبَ، وَقَالَ تَعَالَى {وَقَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ إِلا مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ} فَصَحَّ أَنَّ مَا فَصَّلَ لَنَا بَيَانَهُ عَلَى لِسَانِ رَسُولِهِ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - مِنْ الرِّبَا، أَوْ مِنْ الْحَرَامِ، فَهُوَ رِبًا وَحَرَامٌ، وَمَا لَمْ يُفَصِّلْ لَنَا"

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت