الصفحة 384 من 389

ہے،اب اس کا حل کیا کیاجائے کیوں کہ کسی دوسری عورت سے خدمت رضاعت لینا بھی ممکن نہیں ہے کیوں کہ جہاں مائیں اپنے بچوں کو دودھ پلانے کے لیے تیار نہیں ہیں وہاں کسی دوسرے کے بچے کے لیے خدمت انجام دینا کس قدر مشکل اور غیر ممکن ہوگا ۔

اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے جو ملک بینک قائم کیے گئے ہیں وہاں دو طرح سے دودھ کو جمع کیا جاتا ہے ایک یہ کہ معاشرے میں ماؤں کو ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ دودھ عطیہ کریں نیز ددوھ ماؤوں سے خریدا بھی جاتا ہے۔ بعض خواتین مستقل کرایہ پر ایسی خدمات انجام دیتی ہیں۔ وہ مسلمان جو مغربی ممالک میں رہتے ہیں ان کی طرف سے یہ سوال باقاعدہ پوچھا جاتاہے کہ ایسے بنک بنانا یا ان کو دودھ عطیہ کرنایا فروخت کرناا شرعًا درست بھی ہے یا نہیں۔ وہ بچے جو ملک بنکوں سے دودھ پیتے ہیں ان کی اس عورت کے ساتھ جس کا دودھ ہوتا ہے رضاعت ثابت ہو جاتی ہے کہ نہیں ۔ یا پھر یہ علم ہی نہیں ہوتا کہ کس عورت کا یہ دودھ ہے اور بعد ازاں اس عورت یا اس کی بیٹی سے نکاح ہوجاتا ہے تو نکاح کا حکم کیا ہوتا ہے ۔ ان تمام مسائل کے بارے میں کلا سیکی فقہاء کی اکثریت کا خیال کہ عورت کا دودھ کسی طرح سے بھی بچے کو پلا دیا جائے جس میں دودھ کی کثرت ہو تو اس سے رضاعت ثابت ہو جاتی ہے اور رضاعت کے جملہ احکام اس بچے کے لیے جس پیٹ میں کسی بھی ذریعہ سے دودھ منتقل ہوجاتا ثابت ہوجاتی ہے ۔

اس سلسلہ میں ابن حزم کا مؤقف امت کے جمہور سے خاطرخواہ مختلف ہے اور اس میں وزن ہے ،وہ کہتے ہیں کہ رضاعت فقط اس وقت ثابت ہوگی جب بچہ عورت کی چھاتیوں سے بلاواسطہ دودھ پئیے۔ ابن حزم کی تحقیقات پیش کی جاتی ہیں۔

آُپ فرماتے ہیں کہ وہ رضاعت کہ جسے شریعت نے حرمت نکاح ثابت کیا ہے وہ یہ ہے کہ جس میں بچہ دودھ پلانے والی خاتون کی چھاتیوں خود بغیر کسی واسطے کے پئیے بہ صورت دیگر رضاعت ثابت نہ ہوگی۔ فرماتے ہیں:

وَأَمَّا صِفَةُ الرَّضَاعِ الْمُحَرِّمِ، فَإِنَّمَا هُوَ: مَا امْتَصَّهُ الرَّاضِعُ مِنْ ثَدْيِ الْمُرْضِعَةِ بِفِيهِ فَقَطْ.فَأَمَّا مَنْ سُقِيَ لَبَنَ امْرَأَةٍ فَشَرِبَهُ مِنْ إنَاءٍ، أَوْ حُلِبَ فِي فِيهِ فَبَلَعَهُ؛ أَوْ أُطْعِمَهُ بِخُبْزِ، أَوْ فِي طَعَامٍ، أَوْ صُبَّ فِي فَمِهِ، أَوْ فِي أَنْفِهِ، أَوْ فِي أُذُنِهِ، أَوْ حُقِنَ بِهِ: فَكُلُّ ذَلِكَ لَا يُحَرِّمُ شَيْئًا، وَلَوْ كَانَ ذَلِكَ غِذَاءَهُ دَهْرَهُ كُلَّهُ.بُرْهَانُ ذَلِكَ: قَوْلُ اللّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَأُمَّهَاتُكُمُ اللاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ} [1] ، وَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ - صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَيَحْرُمُ مِنْ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنْ النَّسَبِ» [2]

دیگر تمام شکلیں مثلاََ کسی برتن میں دودھ کو ڈال کر پلایا جائے یا اس کے منہ میں دودھ دھویاجائے یا دودھ

[2] المحلی 10؍185

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت