فهرس الكتاب
میں روٹی بنا کر دی جائے، کھانے میں شامل کیا جائے ، منہ ناک کان میں انڈیل دیا جائے یا پھر ٹیکے کی مدد سے اس کے معدہ میں پہنچایا جائے تو یہ سب چیزیں کسی بھی چیزکی حرمت ثابت نہیں کرتی اگرچہ کسی کو زندگی بھر یہی غذا دی جائے۔ اس پر خدا تعالی کا یہ مبارک قول ہے:تمھاری ان ماؤں سے بھی تمھارا نکاح حرام ہے جنھوں نے تمھیں اپنی چھاتیوں سے دودھ پلایا اور تمھاری رضاعی بہنیں۔اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ رضاعت تمام وہ اشیا حرام کرتی ہے جو نسب کرتا ہے ۔
ان دلائل کے بعد ابن حزم یوں تبصرہ کرتے ہیں:
فَلَمْ يُحَرِّمْ اللّٰهُ تَعَالَى وَلَا رَسُولُهُ - صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي هَذَا الْمَعْنَى نِكَاحًا، إلَّا بِالْإِرْضَاعِ وَالرَّضَاعَةِ وَالرَّضَاعِ فَقَطْ - وَلَا يُسَمَّى إرْضَاعًا إلَّا مَا وَضَعَتْهُ الْمَرْأَةُ الْمُرْضِعَةُ مِنْ ثَدْيِهَا فِي فَمِ الرَّضِيعِ - يُقَالُ أَرْضَعَتْهُ تُرْضِعُهُ إرْضَاعًا.وَلَا يُسَمَّى رَضَاعَةً، وَلَا إرْضَاعًا إلَّا أَخْذُ الْمُرْضَعِ، أَوْ الرَّضِيعِ بِفِيهِ الثَّدْيَ وَامْتِصَاصُهُ إيَّاهُ - تَقُولُ: رَضِعَ يَرْضَعُ رَضَاعًا وَرَضَاعَةً.وَأَمَّا كُلُّ مَا عَدَا ذَلِكَ مِمَّا ذَكَرْنَا فَلَا يُسَمَّى شَيْءٌ مِنْهُ إرْضَاعًا، وَلَا رَضَاعَةً وَلَارَضَاعًا، إنَّمَا هُوَ حَلْبٌ وَطَعَامٌ وَسِقَاءٌ، وَشُرْبٌ وَأَكْلٌ وَبَلْعٌ، وَحُقْنَةٌ وَسَعُوطٌ وَتَقْطِيرٌ، وَلَمْ يُحَرِّمْ اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَذَا شَيْئًا [1]
اللہ رب العزت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکاح کو صرف رضاعت کی بنیاد پر حرام قرار دیا ہے اور رضاعت عربی زبان میں صرف اس عمل کو کہا جاتا ہے جب عورت اپنی چھاتی سے بچے کے منہ میں دودھ پلائے۔ عربی زبان میں کہا جاتا ہے میں نے اس کو چھاتیوں سے دودھ پلایا، وہ عورت اُسے دودھ پلاتی ہے دودھ پلانا ۔ کبھی بھی رضاعت او ارضاع کسی عمل کو نام نہیں دیے جاتے سوائے اس کے کہ عورت بچہ کو اپنی چھاتیوں سے دودھ پلائے اور بچہ چھاتیاں چوس کے دودھ پیے۔ اس کے علاوہ باقی جن تمام چیزوں کے سبب حرمت بتایا گیا ہے انھیں بالکل بھی ارضاع اور رضاعت نہیں کہا جاتا۔ بلکہ وہ دوھنا ، پلانا ، ٹیکہ لگانا ، انڈیلنا اور قطرے پلانا وغیرہ ہےجن میں سے خدا نے کسی بھی شے کو حرام قرار نہیں دیا۔
اس لیے امام ابن حزم کے مؤقف کے مطابق ملک بینکوں سےدودھ پینے دالے بچوں کے لیے ان عورتوں کے ساتھ رشتہ رضاعت ثابت نہیں ہوتا جن کا دودھ ہوتا ہے۔
3-نکاح میں گواہی کا مسئلہ
عصر حاضر کے اہم ترین مسائل میں ایک مسئلہ نکاح اور دوسرا شادی کا ہے ۔ پوری مغربی دنیا میں قانونی سطح پر یہ بات درجہ