الصفحة 386 من 389

ثبوت کو نہیں پہنچتی کہ کسی آدمی کی دوسری شادی رجسٹرڈ ہو گئی ہو۔ مغربی ممالک میں ایک مرد صرف ایک وقت میں ایک ہی بیوی رکھ سکتا ہے اس سے زیادہ خواتین نکاح میں رکھی جائیں تو ان کی شادی قانونی سطح پر تسلیم نہیں کی جاتی۔ ایسے ہی پاکستان میں پچھلے عرصے میں ایک انتہائی بھیانک قانون بنا دیا گیا ہے جس میں یہ شر ط رکھی گئی ہے کہ دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی سے تحریری اجازت نامہ لینا ضروری ہے کہ عورتیں کسی بھی صورت میں شادی کے لیے آمادہ نہیں ہوتیں۔ اس سے عملًا یہ بات قریب قریب ناممکن ہوگئی ہے۔ کہ کوئی آدمی دوسری شادی کا رسک لے اور ایک لمبی چوڑی توہین آمیز جنگ کا آغاز کردے۔

اس قانون کا معاشرتی سطح پر یہ اثر ہوا ہے کہ دوباتوں کا رجحان معاشرے میں بڑھ جائے گا ۔ ایک یہ کہ معاشرے میں موجود ایسی تمام خواتین کہ جو کسی وجہ سے خاوند سے علیحدگی اختیار کر چکی ہیں یا خاوند کی وفات ہوگئی ہے تو اس کے لیے معاشرے میں نکاح کی گنجائش عملًا ختم ہو جائے گی ۔ اس لیے کہ ایسے حضرات جو پہلی شادی کرتے ہیں معاشرے میں یہ بعید ازقیاس بات ہوچکی ہے کہ وہ کسی طلاق یافتہ یا بیوہ خاتون سے کریں۔ دوسرا رشتوں کی فراوانی کی وجہ سے وہ مرد حضرات کہ جو اپنی بیوی کو طلاق دے چکے ہیں یا جن کی خواتین وفات پا چکی ہیں ان کے لیے یہ امکان معاشرے میں پوری طرح موجود ہے کہ انھیں بھی کنواری لڑکیاں میسر آجائیں۔ نتیجتًا معاشرے میں یہ ہوگا ۔ بیوہ یا طلاق یافتہ بچیوں کے نکاح کے امکانات ہمارے معاشرے میں ختم ہو جائیں اور وہ زندگی بھر ایک اذیت ناک حالت میں معاشرے کے رحم و کرم پر رہیں گی۔

ان خواتین کے لیے مستقبل میں دو طرح کے مسائل پیدا ہوتے ہیں ۔ ایک یہ کہ کسی بھی مرد کی مالی کفالت سے محروم رھتی ہیں جس سے یاتو والدین ان کا بوجھ اٹھاتے ہیں لیکن والدین بوڑھے ہوں یا مالی طور پر کمزور ہوں تو ایسی بچیاں دردر کی ٹھوکریں کھاتی ہیں اور پورے معاشرے کی بے رحمی کا نشانہ بنتی ہیں۔ بچے بھی کسی سر پرست کی نگہداشت سے محروم ہوجاتے ہیں جس سے معاشرے کا ایک غیر مہذب اور سماج دشمن فرد پیدا ہوتا ہے تو معاشرے سے بری طرح انتقام لیتا ہے۔ دوسرا یہ کہ یہ عورت اپنی فطری اور جنسی خواہشات کا زیر اثر عام طور پر معاشرتی ناہمواری کا شکار رہتی ہے اور معاشرے کی ہوس پرست نظریں اس کی تاک میں رہتی ہیں اور یہ اپنی عزت و ناموس کی چادر کو میلاکر بیٹھتی ہے یہ سب کچھ اس صورت میں ہوتا ہے کہ جب عورتیں کسی بھی وجہ سے اپنے خاوند سے الگ ہوجائیں یا اس کی سر پرسستی سےے محروم ہو جائیں۔

خواتین کے حوالے سے ایک دوسرا نقصان یہ ہوتا ہے کہ معاشرے کی اخلاقی تربیت نہ ہونے کی وجہ سے معاشرے میں عورت میں اس کے انتخاب کی دوبنیادیں باقی رہ گئیں ہیں ایک خوب صورتی اور حسن اور دوسرا مال و دولت عورت اگر خوبصورت ہے تو اس کے نکاح کے امکان بڑھ جاتے ہیں۔ ایسے ہی اگر عورت کے پاس مال و دولت کی فراوانی ہے تب بھی اس کی دیگر خصوصیات خوبصورتی وغیرہ سے صرف نظر کر لیا جاتا ہے ۔ جبکہ معاشرے میں عام طور پر زیادہ لوگ کم خوب صورت اور کم مال و دولت کے حامل ہوتے ہیں۔

جس سے معاشرے کی دیگر بچیاں جو کسی جسمانی معذوری یا کم خوبصورت ہیں ان کے نکاح کے امکان کم ہوجاتے ہیں اگر ایک سے زیادہ شادیوں کا رجحان معاشرے میں ہو تو پھر معذور اور دیگر کم مال و دولت والی بچیوں کے نکاح بھی باآسانی ہوجاتے

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت