فهرس الكتاب
مردوں کی طرف سے ایسے قوانین کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ مرد جب اپنی جائز ضرورت کی بنیاد ہر دوسری شادی کا سوچتے ہیں تو قانونی اور سماجی رکاوٹیں سامنے آتی ہیں پھر یاتو وہ اپنی ضروریات کو غلط طریقہ پرپورا کرتے ہیں اور اور معاشرہ اخلاقی بے راہ روی کا شکار ہوجاتا ہے یا پھر اگر وہ قانونی سطح پر اسے اختیار کرنا چاہیں تو پہلی شادی کے انہدام کی صورت میں نتیجہ نکلتا ہے ۔ اس کی امکانی صورت یہ تھی کہ لوگ ایک مکمل قانوئی کاروائی کے ذریعہ دوسرا نکاح اپنی بیوی کو اطلاع کے بغیر کر لیتے تھےاور مناسب وقت پراطلاع دے دیتے تا کہ خاندان کسی پریشانی کا شکار نہ ہو لیکن اب ایسے قانو ن کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب آدمی اپنی دوسری شادی پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر رجسٹرڈ نہیں کرواسکتا ۔ تو دوہی شکلیں ہیں ایک یہ کہ مرد اپنے جذبات کی تسکین غلط طریقے پر کرے۔ اگر جائز طریقے سے کرنا چاہے تو عورت اور قانون ایسی رکاوٹیں کھڑی کرے کہ آدمی پہلا گھر برباد کر کہ نئے گھر کو بنانے کا سوچ سکتاہے۔ ایسی صورت میں ایک ہی شکل بنتی ہے کہ جس کے جواز کے بارے میں ابن حزم رحمہ اللہ نے گفتگو کی ہے وہ یہ کہ خفیہ شادی کسے کہاجاتا ہے۔
ابن حزم کےنزدیک خفیہ شادی وہ نہیں ہے کہ جس میں دوگواہ موجود ہوں یہاں تک تو دیگر اہل علم بھی ابن حزم کے ساتھ ہیں وہ نکاح کے درست ہونے کے بارے میں بنیادی شرط یہ لگاتے ہیں ولی کی اجازت سے ہو اور عادل گواہوں کی موجودگی میں ہو ، یعنی اس قدر اگر کسی نکاح میں شرط کا اھتمام کر لیا جائے تو نکاح ہوجائے گا ۔ ابن حزم المحلی میں رقم طراز ہیں:
وَلَا يَتِمُّ النِّكَاحُ إلَّا بِإِشْهَادِ عَدْلَيْنِ فَصَاعِدًا، أَوْ بِإِعْلَانٍ عَامٍّ [1]
نکاح اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا ہے جب تک کہ نکاح پر دو گواہ عادل مسلمان نہ ہوں یا پھر اس کا اعلان عام نہ ہو۔
اس کی دلیل کے طور پر جناب کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی نقل کرتے ہیں جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا گیاہے:
أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ بِغَيْرِ إذْنِ وَلِيِّهَا وَشَاهِدَيْ عَدْلٍ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، وَإِنْ دَخَلَ بِهَا فَلَهَا الْمَهْرُ، وَإِنْ اشْتَجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ» [2]
کوئی بھی عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرے اور دو عادل گواہوں کی شہادت کے بغیر تو اس کا نکاح باطل ہے اور اگر اس پر مرد داخل ہو جائے تو اس کے لیے مہر حق ہوگا اور جہاں نزاع پیدا ہو جائے تو سلطان اس شخص کا ولی ہے جس کا ولی نہ ہو ۔
[2] ایضًا