الصفحة 388 من 389

ابن حزم اس ہدایت پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

لَا يَصِحُّ فِي هَذَا الْبَابِ شَيْءٌ، غَيْرُ هَذَا السَّنَدِ - يَعْنِي ذِكْرَ شَاهِدَيْ عَدْلٍ - وَفِي هَذَا كِفَايَةٌ لِصِحَّتِهِ. [1]

دو گواہوں کے بارے میں جس قدر روایات آئیں ہیں اس روایت کے علاوہ کسی روایت کی سند درجہ ثبوت کو نہیں پہنچتی ہے۔ گویا کہ یہ روایت سندًا درست ہے اور اس میں جو بیان ہو ا ہے ہمارے مؤقف کی تائید کے لیے کافی ہے۔

ابن حزم کے علاوہ دیگر فقہاء اس سلسلہ میں ان کے ہم نوا ہیں اس بارے میں ابن قدامہ رقم طراز ہیں:

أَنَّ النِّكَاحَ لَا يَنْعَقِدُ إلَّا بِشَاهِدَيْنِ. هَذَا الْمَشْهُورُ عَنْ أَحْمَدَ. وَرُوِيَ ذَلِكَ عَنْ عُمَرَ، وَعَلِيٍّ، وَهُوَ قَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَجَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، وَالْحَسَنِ، وَالنَّخَعِيِّ، وَقَتَادَةَ، وَالثَّوْرِيِّ، وَالْأَوْزَاعِيِّ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَصْحَابِ الرَّأْيِ. [2]

بلا شبہ نکاح دو گواہوں کی موجودگی کے بغیر منعقد نہیں ہوتا یہ احمد کا مشہور قول ہے اور یہی بات جناب عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی ہے اسی طرح ابن عباسؒ سعیدبن مسیبب جابر بن زید حسن بصری نخعی ثوری اوزاعی شافعی اور اصحاب الرائے کا بھی قول ہے ۔

گویا کہ تمام ائمہ کے ہاں نکاح میں دو گواہوں کی موجودگی کا مسئلہ معروف اور مشہور ہے جس میں کوئی بڑا اختلاف نہیں ہے۔

عصر جدید کی ضرورتیں اور گواہوں کے سلسلہ میں ابن حزم کی راے

گواہوں کے مسئلہ میں ابن حزم کی رائے با دلیل ذکر کردی گئی ہے جس سے اس کا نقطہ نگاہ واضح ہوجاتا ہے ۔ البتہ جس طرح کے ہم نے مذکورہ صورت پیش کی ہے جس میں عصر حاضر کی کے مسائل ہیں دوسری شادی کے حوالے ذکر کیے ہیں، اس بارے میں اگر انسان دوسری شادی کرلے اور معاشرتی ناہمورایوں سے بچتے ہویے وہ اس نکاح کی کسی کو اطلاع نہ دیں تو اس طرح کرنا شرعًا جائز اور درست ہے جیساکہ ابن حزم نے وضاحت کی ہے۔

وَلَا يَتِمُّ النِّكَاحُ إلَّا بِإِشْهَادِ عَدْلَيْنِ فَصَاعِدًا، أَوْ بِإِعْلَانٍ عَامٍّ، فَإِنْ اسْتَكْتَمَ الشَّاهِدَانِ لَمْ يَضُرَّ ذَلِكَ شَيْئًا. [3]

[2] المغنی 7؍8

[3] المحلی 9؍48

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت