فهرس الكتاب
نکاح دو یا ایک سے زیادہ گواہوں یا اعلان عا م کے بغیر پورا نہیں ہوتا۔ البتہ ان کو نکاح کے چھپانے کی درخواست کی جائے تو اس سے صحت نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
اس کے بعد انھوں نے دیگر فقہاء کے اس نظریہ کابھی رد کیا ہے جو اس کی اجازت نہیں دیتے ۔ کیوں کہ دیگر فقہاء کاخیال ہے کہ یہ سری نکاح ہے اور سری نکاح باطل ہے۔ آپ رقم طراز ہیں:
وَقَالَ قَوْمٌ: إذَا اُسْتُكْتِمَ الشَّاهِدَانِ فَهُوَ نِكَاحُ سِرٍّ، وَهُوَ بَاطِلٌ.قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ: وَهَذَا خَطَأٌ لِوَجْهَيْنِ: أَحَدُهُمَا - أَنَّهُ لَمْ يَصِحَّ قَطُّ نَهْيٌ عَنْ نِكَاحِ السِّرِّ إذَا شَهِدَ عَلَيْهِ عَدْلَانِ.وَالثَّانِي - أَنَّهُ لَيْسَ سِرًّا مَا عَلِمَهُ خَمْسَةٌ: النَّاكِحُ، وَالْمُنْكِحُ، وَالْمُنْكَحَةُ، وَالشَّاهِدَانِ - قَالَ الشَّاعِرُ:أَلَا كُلُّ سِرٍّ جَاوَزَ اثْنَيْنِ شَائِعٌ، وَقَالَ غَيْرُهُ:
السِّرُّ يَكْتُمُهُ الِاثْنَانِ بَيْنَهُمَا ... وَكُلُّ سِرٍّ عَدَا الِاثْنَيْنِ مُنْتَشِر [1]
علما کی ایک جماعت کا خیال ہے کہ گواہ سےنکاح کے مخفی رکھنے کی درخواست کرنا یہ نکاح سرّی ہے جو کہ باطل ہے ابن حزم کہتے ہیں یہ بات دو اعتبارات سے غلط ہے ایک یہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات درست طریقہ پر ثابت ہی نہیں ہے اور نہ ہوسکتی ہے کہ آپ نے اس مخفی نکاح سے منع کیا ہو جس پر دو عادل گواہ بھی موجود ہوں اور دوسری یہ بات یہ کہ یہ اصول لغت کے اعتبار سے سرّی ہے ہی نہیں کیوں کہ اس نکاح کے بارے میں پانچ لوگ باخبر ہیں جن میں نکاح خواں منکوحہ لڑکی خاوند نکاح کرنے والا اور دو گواہ ۔ جبکہ سر ( راز ) وہ ہوتے ہے کو جوصرف دو لوگوں کے درمیان ہو جیسا کی شاعر نے کہا ہے:
ہر راز دو لوگوں سے آگے بڑھ جائے تو وہ معروف و مشہور ہوتا ہے ۔
اور دوسرے شاعر نے کہا ہے:
راز وہی ہے جسے دو لوگ چھپائے رکھیں ہر راز جسے دو کے علاوہ کوئی جانتا ہو راز نہیں ہوتا۔
ان دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ ابن حزم کے مؤقف میں قوت استدلال موجود ہے اس لیے موجودہ دور میں کوئی شخص دوسری شادی کرلے اور نہ اُسے رجسٹرڈ کرایا گیا ہو اور نہ ہی دو گواہوں کے علاوہ کسی کو معلوم ہو تو ایسانکاح ابن حزم کی رائے کے مطابق درست ہوگا۔
اس کے علاوہ ابن حزم نے دیگر فقہاء کرام کی آرا بھی ذکر کی ہیں جو نکاح کے چھپائے رکھنے کو درست خیال کرتے ہیں۔ آپ لکھتے ہیں:
وَمَنْ أَبَاحَ النِّكَاحَ الَّذِي يُسْتَكْتَمُ فِيهِ الشَّاهِدَانِ: أَبُو حَنِيفَةَ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَبُو سُلَيْمَانَ؛