فهرس الكتاب
سماعا جما، وما رأینا مثله رحمه اللّٰه تعالى فیما اجتمع له مع الزکاۃ و سرعة الحفظ و کرم النفس والتدین." [1] "
''ابن حزم علوم حدیث و فقہ کے غواص تھے۔کتاب و سنت سے احکام اخذ کرتے اور علوم و فنون کے ماہر تھے۔اپنے علم پر عامل،ریاست و وزارت کے بعد زہد اختیار کرنے والےتھے۔آپ کی تصنیفات بہت زیادہ ہیں، علم حدیث میں آپ نے بہت کچھ جمع کیا۔ہم نے ان جیسا شخص پھر نہیں دیکھا جس میں اس حد تک دماغی چستی،حافظہ،عزت نفس اوردین داری کی صفات یکجا ہو گئی ہوں۔''
مورخ ابن خلکان نے لکھا ہے کہ ابن حزم حدیث کےمعارف و علوم کے حافظ اور عالم تھے ؛کتاب و سنت سے استنباط احکام کے ماہر تھے۔وہ پہلے شافعی المذہب تھے لیکن بعد ازاں انہوں نے اہل ظاہر کا مذہب اپنا لیا۔ وہ جملہ علوم میں مہارت رکھتےتھے ۔وہ اپنے علم پر عامل اور موروثی جاہ و منصب کے علی الرغم زاہدِ دنیا،متواضع، فضائل واخلاق سے آراستہ، مصنفِ کتبِ کثیرہ تھے۔ [2]
ابو حامد غزالی (م505ھ) لکھتے ہیں کہ میں نے اسمائے الٰہی سے متعلق ابنِ حزم کی تصنیف کامطالعہ کیا جو ان کے حافظے کی مضبوطی اور ذہن کی تیزی پر دلالت کناں تھی۔
عزالدین بن عبدالسلام (م660ھ) کاکہنا ہےکہ میں نےکتبِ اسلامیہ میں المحلی اور ابن قدامہ کی المغنی کے مانند کوئی اور کتاب نہیں دیکھی۔ [3]
ابن تیمیہ (م728ھ) ابن حزم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ دین و ایمان اورکثرت و وسعتِ علم کے حامل تھے جس کا انکار معاند شخص کے سوا کوئی نہیں کر سکتا۔ان کی کتابوں میں اہلِ علم کے اقوال پر اطلاع،احوال کی معرفت،شعائرِ اسلامیہ اور رسالتِ محمدیہ کی تعظیم کے ایسے مظاہر دیکھنے کو ملتے ہیں جو ان کے سوا کسی دوسرےمیں نظر نہیں آتے۔ [4]
حافظ ابن کثیر نےانھیں امام، حافظ اور علامہ ایسے القاب سے یاد کیا ہے اورکہا ہےکہ وہ مفید شرعی علوم میں مشغول رہتے اور ان میں نمایاں حیثیت رکھتےتھے۔وہ اپنے اہلِ زمانہ سے فائق تر اورمشہورکتب کے مصنف تھے۔ [5]
[2] وفیات الأعیان،3؍325
[3] طبقات علماء الحدیث،3؍345؛ تذکرة الحفاظ،3؍1150
[4] مجموع الفتاوی،4؍20
[5] البدایة والنهایة،12؍83