فهرس الكتاب
مصیبت ہے۔'' [1]
اہلِ علم کا خراج تحسین
ہر زمانے کے اہل علم وفکرنےابن حزم کو خراج تحسین پیش کیا اور ان کی قدرو منزلت کا اعتراف کیا ہے جن میں معاصرین اور ان کےبعد آنے والے اہل علم شامل ہیں۔
ابن حزم کے معاصرین میں تین ہی قسم کے لوگ شامل تھے۔ایک وہ جو ان کے دوست بھی تھے اور ہم عصر بھی۔ان کے ہاں اتفاق و اختلاف کے علی الرغم ابن حزم کے بلند مرتبے کا اعتراف ملتا ہے۔ان میں ابن حیان اور ابن الطبنی ایسی اصحاب شامل تھے۔دوسرے وہ معاصرین تھے جو علمی طور پر تو ابن حزم سے شدید اختلاف کیا کرتے تھے لیکن ان کی ذات پر حرف گیری ان کا شیوہ نہ تھی،اس صنف میں ہم ابن عبدالبر کو شمار کرتے ہیں جو ایک طرف قصداََترک کی گئی نماز کی قضا نہ کرنے پر ابن حزم کے موقف پر سخت تنقید کرتے تھے تو دوسری طرف ابن حزم نے انہیں اندلس کے قابلِ فخر علماء میں شمار کیا ہے [2] ۔تیسری قسم ان معاندین کی تھی جو علمی اعتبار سے رد سے آگے بڑھ کو ذاتی بدسلوکی کو روا رکھتے تھے کیونکہ ابن حزم مصلحت اور نرمی سے آشنا نہ تھے،جس بات کو درست سمجھتے تھے سیدھا کہہ ڈالتے تھے۔ان میں قاضی ابوولید الباجی المالکی قابل ذکر ہیں جن کو بطور خاص ابن حزم کا اثر زائل کرنے کے لیے میورقہ بلایا گیا تھا اورانہوں نے حکام کےساتھ تعلقات پیدا کرکےابن حزم کو یہاں سے نکلوا دیا تھا۔
ابومروان بن حیان ابن حزم کی تعریف میں یوں رقم طراز ہیں:
'' ابن حزم حدیث و فقہ اور مناظرہ و انسان کے ماہر تھے اور علم ان کے علوم میں قدیم منطق و فلسفہ بھی شامل تھے جن میں انہوں نے کتابیں بھی تصنیف کی ہیں۔'' [3]
علامہ حمیدی ابن حزم کے معروف ترین شاگرد ہیں۔اپنےاستاذ کو ذکر یوں کرتے ہیں:
"کان حافظًا عالمًا بعلوم الحدیث و فقهه، مستنبطًا للأحکام من الکتاب والسنة، متفننا في علوم جمة، عاملًا بعلمه، زاهدا في الدنیا بعد الریاسة التی کانت له والابیه من قبله من الوزارة و تدبیر الممالك، متواضعًا ذا فضائل جمة، وتألیف کثیرۃ في کل ما تحقق به في العلوم، وجمع من الکتب في علم الأحادیث والمصنفات والمسندات شیئًا کثیرًا و سمع"
[2] فضائل الأندلس،ص14
[3] ابن بسام، الجزیرة في محاسن أهل الجزیرة،1؍167