الصفحة 38 من 389

یہی وجہ ہے کہ وہ ظاہری فقہ کے امام داؤد ظاہری کی طرح ظاہرِ نصوص کی طرف دعوت دینے لگے۔یوں براہ راست نصوص و آثار پر عمل پیرا ہوئے۔ ابن حزم کہا کرتے تھے"میں حق کا پیرو ہوں، کسی معین مذہب کا پابند نہیں ہوں۔" [1]

وفات

زندگی کا اخری دور ابن حزم نے اپنے آبائی علاقے منت لیثم میں گزارا ۔یہ قریباََ بیس سال کا طویل عرصہ بنتا ہے۔یہاں وہ ارد گرد کے لوگوں میں تبلیغ دین میں مصروف رہتے اور طالبانِ علم میں سے بھی جو آ جاتا اس کو علوم و فنون سے بہرہ ور کرتے۔یوں یہ سارا عرصہ درس و تدریس،دعوت و تبلیغ اور تصنیف و مذاکرہ میں گزرا۔

آخری عمر میں ابن حزم برص کی بیماری کا شکار ہو گئے تھے۔ ابن حزم کی وفات 28 شعبان 456ھ بمطابق 15 جولائی 1064ء کی رات بہتر سال کی عمر میں ہوئی [2] ۔اللہ ان پر رحم فرمائے۔آمین۔ اپنا مرثیہ خود ابن حزم نے ان اشعار میں کہا ہے:

کأنك بالزور لى قد تبادروا

وقیل لهم أودی علي بن أحمد

فیا رب محزون هناك وضاحك

وکم ادمع تذری و حذ مخدود

عفا اللّٰه عنی یوم ارحل ظاعناَ

عن الأهل محمولًا إلى ضیق ملحد

والقی الذی آنست منه بمرصد

فوارا حتی إن کان زادی مقدما

ویانصبی إن کنت لم اتزود

''جب لوگوں کو بتایا گیا کہ علی بن احمد فوت ہو گیا تو وہ جلدی جلدی میری زیارت کو آنے لگے ۔یہ وہ وقت تھا کہ تنے ہی لوگ غم و اندوہ سے بھرے ہوئے تھے اور کتنے ہی خوش تھے۔آنکھیں آنسو بہا رہی تھیں اور چہرے سوگرار تھے۔ (میری آرزوہے) کہ میں رخصت ہو کر جاؤں تو لوگوں کو خود پر رشک کرتا چھوڑ کر جاؤں۔ اگر کوئی سامان سفر آگے بھیجا ہے تو ہی مجھے سکون و راحت میسر ہو سکے گی ورنہ تو مشکل ہی مشکل اور مصیبت ہی

[2] ابن خلکان، وفیات الأعیان،3؍328، ابن بشکوال، الصلة،2؍417

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت