الصفحة 37 من 389

ان سے لا تعلق ہو گئے۔ وہ ان کی کتابوں سے متنفر ہو گئے اور پھر انھیں جلا ہی دیا۔'' [1]

عقیدہ و مسلک

ابن حزم مجموعی طور پر مسلکِ اہل سنت کے حامل ہیں،البتہ اصول و فروع میں ابن حزم کامسلک مختلف نظر آتا ہے۔وہ فروع میں ظاہریت کے باب میں امام کے درجے پر فائز ہیں جبکہ اصول میں ظاہریت سےاعتناء کم تر درجے پر دکھائی دیتا ہے ۔ عقائد میں ابن حزم اہلِ سنت سے زیادہ متکلمین سے موافقت رکھتے ہیں ۔ [2]

عقیدہ کے مسائل میں ابن حزم کا رجحان کسی ایک متعین جانب ہونے کے بجاے مختلف مسائل میں متکلمین، معتزلہ اور جمہور اہل سنت کی طرف دکھائی دیتا ہے۔اسی رجحان کی تفصیل بیان کرتے ہوئے ابن تیمیہ کہتے ہیں کہ ابن حزم الملل والنحل میں سنت و حدیث کی موافقت کرنے پر قابلِ تعریف ہیں، مسائلِ قضا و قدر اور ارجا کے حوالے سے وہ اہلِ سنت کا موقف اپناتے ہیں جبکہ تفضیل صحابہ کے معاملے میں ان کا تفرد دکھائی دیتا ہے۔ وہ صفات باری تعالیٰ کے مسئلے میں احادیث صحیحہ کو مانتے اور ائمہ حدیث کی تعظیم کرتے ہیں لیکن بسا اوقات ان کی تعبیر فلاسفہ اور معتزلہ سے توافق اختیار کرتی دکھائی دیتی ہے جو مذہبِ اہل الحدیث کے خلاف ہے ۔ [3] ذہبی کے مطابق ابن حزم سے محبت کی وجہ ان کی حدیث و سنت سے محبت ہے البتہ ان کے رجال و علل میں کلام اوراصول و فروع میں سنگین غلطیوں سے اتفاق ممکن نہیں۔ [4] اسی طرح ابن کثیر نے لکھا ہے:

اصول کو دیکھا جائے تو ابن حزم آیات و احادیث صفات کے معاملے میں سب سے زیادہ تاویل کرنے والے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا جھکاؤ منطق کی طرف تھا جس کا ذکر ابن خلکان اور ابن ماکولا نے بھی کیا ہے۔ اس بنا پر ابن حزم صفات کے باب میں جادہ مستقیم پر قائم نہ رہ سکے۔ [5]

یہ بات معروف ہے کہ ابن حزم فروع میں مکتبِ ظاہری کے ایک جلیل القدر امام تھے۔ اس سے پہلے وہ شافعی مدرسہ کر کے پیرو تھے۔ دورِ تحصیل علم کی ابتدا میں وہ مالکی فقہ سے منسلک تھے جو کہ اندلس میں باقاعدہ رائج تھی۔ علم دین کی ابتدا میں موطا سے کی اور بعد ازاں مطالعہ میں وسعت پیدا ہوئی اور چونکہ انتقادی ذہن پایا تھا اور نصوص کتاب و سنت سے گہرا شغف رکھتے تھے اس لیے جب امام شافعی کی کتابوں کا مطالعہ کیا تو ان میں بھی یہی خوبیاں نظر ائیں چنانچہ شافعی مسلک اختیار کر لیا۔

ابن حزم کی اجتہادی طبیعت شافعیت پر بھی قانع نہ رہ سکی کیونکہ امام شافعی کے ہاں بھی قیاس سے اعتناء کافی پایا جاتا ہے۔،

[2] سیر أعلام النبلاء،18؍186

[3] مجموع الفتاوی،4؍19

[4] سیر أعلام النبلاء،18؍201

[5] البدایة النهایة،12؍92

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت