الصفحة 36 من 389

نصر مروزی، کتاب ابی بکر المنذر الاکبر والاصغر۔ پھر مصنف حماد بن سلمہ و مصنف سعید بن منصور، مصنف و کیع، مصنف الغریابی، موطا مالک بن انس، موطا ابن ابی ذئب، موطا ابن وہب، مسائل احمد بن حنبل، فقہ ابو عبید اور فقہ ابو ثور وغیرہ۔'' [1]

سخت کلامی

انسان جہاں خوبیوں کے حامل ہوتے ہیں، وہیں ان میں کم زوریاں بھی پائی جاتی ہیں۔ابن حزم اپنے تمام تر اوصاف حمیدہ کے باوصف اپنی سخت کلامی کے لیے معروف ہیں۔ وہ اپنے مخالفین کے لیے اکثر اس حد تک تند و تیز لہجہ اختیار اپنا لیا کرتے تھے جو علماکی شان سےمطابقت نہیں رکھتا۔مخالف کے موقف پر نقد و نظر کے ساتھ وہ اس کی ذات پر بھی طعن و تشنیع کر گزرتےتھے جس کی بنا پر انھیں سخت مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ان کے قلم کی سختی سے کبار ائمہ مثلًا امام ابوحنیفہ اور امام مالک وغیرہ بھی محفوظ نہیں رہے ہیں۔ ابن العریف (م536ھ) نے ابن حزم کی شدت زبان کو حجاج کی تلوار کے مماثل قرار دیا ہے کہ ابن حزم کی زبان اور حجاج کی تلوار یک ساں ہیں۔ [2]

اس حدت اور شدت کی وجوہات ان کی ذات اور زمان و مکان دونوں میں پیوست نظر آتی ہیں۔ ذاتی حوالے سے ان کو تلی کی ایسی شدیدبیماری کاسامنا رہا جس کے سبب سے مزاج میں سختی پیدا ہو جاناطبعی امرمعلوم ہوتا ہے۔ اسی طرح اندلس کی طوائف الملوکی کے دورمیں شدید عدم استحکام کے حالات ان کے مزاج پر اثر انداز ہوئے ہیں۔

مورخ ابن خلکان ان کے اس طرز عمل کا تذکرہ کرتے ہوئےلکھتے ہیں:

''ابن حزم علماے متقدمین پر بہت حرف گیری کیا کرتے تھے؛ ان کی زبان سے کم ہی کوئی محفوظ رہ سکا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں کے دلوں میں ان سے نفرت پیدا ہو گئی اور وہ فقہاے وقت کی تنقیدوں کا ہدف بن گئے جو ان کے بغض پر کمر بستہ ہو گئے اور ان کے اقوال کو رد کر دیا۔ تمام فقہا ابن حزم کی تضلیل پر متفق ہو گئے اور ان پر طعن و تشنیع کرنے لگے۔ انھوں نے حکام کو ان سے برگشتہ کرنا شروع کر دیا اور عوام کو ان کی قربت اور اخذ و استفادے سے منع کرنے لگے۔ اہل حکومت نے انھیں دور کر دیا اور وطن سے نکال دیا۔'' [3]

حافظ ذہبی نے اس ضمن میں لکھا ہے:

''انھوں نےاپنی زبان و قلم کو بے لگام چھوڑ دیا اور ائمہ کا ادب ملحوظ نہ رکھا بل کہ سخت کلامی اور سب و شتم کو اپنا شعار بنا لیا۔بدلے میں انھیں بھی اسی سلوک کا سامنا کرنا پڑا کہ ائمہ نے ان کی تصانیف سے بے رخی برتی اور

[2] وفیات الاعیان،4؍13

[3] وفیات الأعیان، 3؍227

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت