الصفحة 35 من 389

بات چیت ہی کیوں نہ کی ہو؛ میں اس کا شکر گزار اور مدح سراح ہوں ۔میں اس سے مزید مدد و عنایت کا امید وار رہتا ہوں۔ غداری اور بے وفائی سے زیادہ کوئی چیز مجھ پر گراں نہیں ہے۔ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جس کا مجھ پر معمولی ترین حق بھی ہو اس کے ساتھ کسی قسم کی ضرر رسانی کی بات سوچنے پر میری طبیعت کبھی آمادہ نہیں ہوئی،خواہ میری ذات پر اس کے جرائم اور گناہ کتنے ہی زیادہ اور بڑے کیوں نہ ہوں ۔مجھے یقیناََ اس نوع کی بہت ساری اذیتیں پہنچیں مگر میں نے برائی کا بدلہ ہمیشہ بھلائی سے دیا۔ اس سلسلے میں میں اللہ تعالی کی بہت زیادہ حمدوثناء اور شکریہ ادا کرتا ہوں۔'' [1]

عفت و پاک دامنی

عصمت و پارسائی خدا کی جانب سے ایک عظیم نعمت ہے۔ خاص طور سے جبکہ گناہ کے تمام تر وسائل نفس کو اپنی جانب متوجہ کر رہے ہوں تو ایسے میں اپنے دامن کو داغ دار ہونے سے بچانا اللہ کی توفیق کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ ابن حزم کی زندگی ایسے ماحول میں گزری جہاں قدم قدم پر معصیت کی ترغیب موجود تھی لیکن انہوں نے کبھی اپنے کردار کوگناہ کی آلائش سے آلودہ نہیں ہونے دیا۔ ان کا اپنا بیان ہے:

''خدا شاہد ہے کہ میں پاک دامن، سلیم الطبع، صحیح طور طریقے والا اور صاف ستھرے ازاربند والا یعنی پارسا اور عفیف ہوں۔ میں اللہ تعالیٰ کی ہر بڑی سے بڑی بات کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے کبھی حرام شرم گاہ کے لیے اپنا ازار بند نہیں کھولا اور نہ اللہ تعالیٰ مجھ سے زنا جیسے کبیرہ گناہ پر محاسبہ کرے گا ۔جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے تب سے آج تک میرا یہی طور و طریق ہے۔'' [2]

حاضر جوابی

ابن حزم کو اللہ تعالیٰ نے بہت تیز دماغ عطا کیا تھا۔ وہ بڑے حاضر جواب اور فی البدیہہ گفت گو کے ماہر تھے۔ اس خوبی کی وجہ سے وہ بحث ومناظرہ میں ہمیشہ کام یاب رہتے تھے۔ حافظ ذہبی لکھتے ہیں:

''کسی نے ابن حزم کے پاس بعض علما کا ذکر کیا جو موطا کو افضل ترین کتاب تصور کرتے تھے۔ تو ابن حزم نے کہا کہ سب سے زیادہ تعظیم کی مستحق صحیحین ہیں۔ پھر صحیح سعید بن السکن، منتقیٰ ابن الجارود، منتقیٰ قاسم بن اصبغ، مصنف طحاوی، مسند ابن ابی شیبہ، مسند احمد ابن حنبل، مسند ابن راہویہ مسند طیالسی، مسند حسن بن سفیان، مسند عبداللہ بن محمد، مسند یعقوب بن شعبہ، مسند ابن ابی غرزہ اپنی اپنی جگہ تعظیم کی مستحق ہیں۔ پھر وہ کتب جن میں دیگر علما کے اقوال مذکور ہیں مثلًا مصنف عبد الرزاق، المصنف ابی بکر بن شیبہ، مصنف بقی بن مخلد، کتاب محمد بن

[2] أیضًا

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت