فهرس الكتاب
ہوا [1] ۔اس کے علاوہ معروف اساتذہ میں ابوعلی حسین بن علی الفاسی بھی شامل ہیں جو ابن عبدالبر کے ہم عصر تھے۔ابن حیان اور ابو شہید وغیرہ بھی ہیں جو ابن حزم کے ہم عصر بھی تھے جن سے انہوں نے پڑھا اور پڑھایا۔
شعر و ادب میں ابوسعید الفتی الجعفری کے سامنے زانوے تلمذ طے کیے [2] ۔فقہ کے باب میں علی بن سعید العبدری المیورقی اور امام ابو عبداللہ بن دحون سے استفادہ کیا [3] اور علوم عقلیہ میں منطق کے لیے محمد بن حسن المذجحی المعروف بہ ابن الکسائی اور احمد بن محمد بن عبد الوارث سے علم منطق کی تعلیم لی [4] ۔علم تاریخ میں ابن حزم کے استاذ قاضی ابوالاولید عبداللہ بن یوسف اورابن الدلائی الغدری ہیں۔اس کے علاوہ ان کے والد احمد بن سعید بھی جو حکومت عامریہ کے احوال و وقائع سے انہیں آگاہ کیا کرتے تھے [5] ۔اس کے علاوہ عبدالرحمٰن بن عبداللہ،عبداللہ بن محمد بن عبدالملک اور عبدالرحمٰن بن سلمہ الکنانی بھی ابن حزم کے شیوخ میں شامل ہیں۔تقابل ادیان کے سلسلے میں ایک یہودی معالج اسماعیل بن یونس کا نام آتا ہے جس سے ابن حزم کی گفت گو رہتی اور وہ اس سے مذاہب عالم کی بابت تحقیق و تفتیش کیا کرتے تھے [6] ۔
ابن حزم کے اساتذہ کی تعداد بہت زیادہ ہے جن کے تذکرے رجال کی کتابوں میں طویل تر ہیں۔ہر استاذ سے اس کے علم اور اپنے ذوق کے مطابق ابن حزم نے استفادہ کیا۔
اخلاق و اوصاف
ابن حزم کی شخصیت گوناگوں خوبیوں کا مرقع تھی جو شاذ ہی کسی ایک شخصیت میں جمع ہوتی ہیں،چند ایک کا تذکرہ ذیل میں کیا جاتا ہے۔
مہر و وفا
وفاشعاری ایک ایساوصف ہےجوہمیشہ کم یاب رہاہے۔اس لیے جو لوگ اس سے متصف ہوتےہیں ہمیشہ قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھےجاتے ہیں۔ابن حزم میں بھی یہ خوبی موجود تھی۔وہ خود لکھتےہیں:
''جو شخص ایک مرتبہ میرے پاس آیا، اس کے لیے اللہ تعالی نے مجھ کو وفاداری کا جذبہ بخشا ہے۔ جو کوئی کوئی حق رکھتا ہے اس کی پاسداری کی توفیق بھی مجھے اللہ تعالی نے عطا فرمائی ہے، خواہ اس نے میرے ساتھ تھوڑی دیر
[2] طوق الحمامة،ص100
[3] معجم الأدبار،ص242
[4] الوفیات،ابن خليکان، 3؍326
[5] ابن حزم و رسالته، سعید الأفغاني،ص35
[6] ابن حزم، صورة أندلسیة، طه الجابری، ص88