فهرس الكتاب
منہمک رہے:
''کئی دن اور کئی راتیں اس مسئلہ میں مجھے فکر دامن گیر رہی حتیٰ کہ اس توجیہ مجھ پر واضح ہو گئی اور اس کے حل ہونے کا یقین ہو گیا۔ حالانکہ جن پریشانیوں میں میں گرفتار تھا اس مسئلے کو حل کرنے کی خوشی مجھے ان سے نجات پانے سے کہیں بڑھ کر ہوئی۔'' [1]
ابن حزم کے دور میں علم کی تحصیل آج کی طرح آسان نہ تھی اورسفر وسیلہ ظفر کا محاورہ میدان علم پرصحیح معنوں میں منطبق ہوا کرتا تھا۔اہل اندلس کسی عالم کی عظمت کے قائل اس وقت تک نہ ہوتے تھے جب تک وہ بغداد و دمشق ایسے بلاد اسلامیہ میں تحصیل علم کی غرض سے سفر کر کے نہ لوٹتا تھا۔اسی فضا میں ابن حزم نے بھی تحصیل علم کے لیے سفر اختیار کیے۔اپنے شعروں میں اس تمنا کا اظہار کرتے وہ لکھتے ہیں کہ ان پر گویا عراق اور دیگر مشرق کے علاقوں میں پہنچنے کا عشق سوار تھا کیونکہ علم محض اندلس ہی میں مقید نہیں ہے اور بلادِ مشرق کے سفر سے علم کے ساتھ ساتھ رنج و الم کا خاتمہ بھی ہو گا۔
شیوخ واساتذہ
حافظ ابن حزم بنیادی طور پر ایک محدث اور شاعر تھے۔اس دور میں علوم میں تخصیص کا رجحان آج کی طرح نہیں تھا جس کے مطابق ایک علم یا ایک طرح کے علوم میں مہارت حاصل کرنے والا باقی علوم سے بے بہرہ ہوتا ہے۔چنانچہ اپنے دور کے علمی ذوق کے مطابق ابن حزم نے بہ قدر استطاعت سبھی علوم کی تحصیل کی طرف توجہ کی،ان میں علوم عالیہ و آلیہ بھی شامل تھے اور ان کے علاوہ ریاضی ،انساب، تاریخ اور مذاہب عالم ایسے متنوع علوم بھی شامل تھے۔
ابن حزم نے علمی سفر کا آغاز چار سو ہجری سے کچھ پہلے اپنے استاذ ابوعمر احمد بن محمد الجسور کے یہاں سماع سے کیا۔شیخ الجسور شیخ کبیر کے نام سے معروف تھے اور ان کا شمار اعلیٰ پائے کے علماء میں ہوتا تھا۔اس کے بعد ابن حزم نے دیگر جن شیوخ سے علم حاصل کیا ان میں قاضی ابوبکر حمام بن احمد،عبدالرحمان بن ابی یزید المصری (م410ھ) ،ابوعمر احمد بن الحسین،قاضی یوسف بن عبداللہ، عبداللہ بن محمد بن عثمان اور عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن خالد شامل ہیں [2] ۔
علمِ حدیث کا تلمذ ابن حزم نے احمد بن عمر بن انس اور معروف مالکی محدث احمد بن محمد بن عبدالبر الطلمکنی سے کیا۔اس کے علاوہ ابن دراج القطی اور احمد بن قاسم اصبغ بھی شیوخ حدیث میں شامل ہیں [3] ۔ابن حزم کے معروف اساتذہ میں سعود بن سلیمان بن مفلت کا نام آتاہے۔ابن حزم نے ان سے فقہ سیکھی اور مذہبِ اہل ظاہرکی طرف میلان بھی انہی کے طفیل پیدا
[2] ابن حزم ورسالته في المفاضله، ص34، المقتبس، حمیدی، ص268
[3] سیر اعلام الابلاد (ت:سعید افغانی) ،فصل:ترجمہ ابن حزم