فهرس الكتاب
کو بھی اس سانحے نے دل و دماغ سے محو کر دیا [1] ۔
قریبی رشتوں میں سے والد اور بھائی کے علاوہ کسی کا ذکر تاریخ میں نہیں ملتا۔
نقل مکانی
شاہی عتاب کے بعد ابن حزم کو پے درپے نقل مکانی کرنی پڑی اور وہ مختلف اوقات میں شاطبہ،بلنسیہ ،اشبیلیہ اور المریہ میں قایم پذیر رہے۔
طوائف الملوکی کے زمانے میں بربری قبائل قرطبہ پر قابض ہو گئے،چنانچہ ابن حزم کو 404ء میں المریہ کی طرف رخت سفر باندھا ۔یہاں انہوں نے اپنی علمی دلچسپی کے مشاغل اختیار کئے اور دوستوں کے ساتھ شعر و ادب کی محفلیں قائم کیں۔المریہ کے حاکم کسی حد تک بنو امیہ کے طرف دار تھے،اسی وجہ سے ابن حزم نے اس کی طرف جانے کا ارادہ بھی کیا لیکن جلد ہی بنو امیہ کی حکومت کا بالکلیہ خاتمہ ہو گیا اور علی بن حمود حکمران بن بیٹھا تو المریہ کا حکمران خیراں العامری بھی ابن حزم کے خلاف ہو گیا۔ابن حزم کو قید کر دیا گیا ،ان پرالزام تھا کہ وہ بنو امیہ کے حکومت دوبارہ قائم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔رہائی ہوئی تو انہیں جلاوطن کر دیا گیا اور چند مہینے ''حص القصر"کے قلعہ دار عبداللہ بن ہذیل ابن المغفل کے پاس ٹھہرنے کے بعد ابن حزم نے بلنسیہ کی طرف رخت سفر باندھا [2] ۔"
دوسال بلنسیہ میں گزارنے کے بعد جب بنوجہور کی حکومت مستحکم ہو گئی تو ابن حزم واپس قرطبہ آ گئے۔اب ان کی عمر پچیس سال تھی ۔زمانے کا تلخابہ ان کو اپنا ذائقہ چکھا چکا تھا اور محل سرا سے بے سروسامانی کی حالت میں مسلسل سفر نے انہیں خاصا سرد وگرم چشیدہ شخصیت میں ڈھال دیا تھا۔اس ربع صدی کا اوائل خواتین کے پنگھوڑے میں ناز و نعم سے پرورش کا تھا اور سیاسی وجوہات کی بنا پر پے درپے صعوبتوں اور مصیبتوں سے خندہ پیشانی سے پیش آنا دوسرے نصف کا خاصا تھا۔فطرت ابن حزم کی تربیت ہر دو پہلو سے کر رہی تھی۔
تحصیل علم
ابن حز م کو سیاسی حالات کی بنا پر ایک عرصہ دربدر رہنا پڑا۔یہ تمام عرصہ کسی بھی کمزور انسان کی عزم و ہمت کے توڑنے کے لیے بہت کافی تھا لیکن اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ ابن حزم کے ہاں افکار و نظریات کی پختگی کا سلسلہ جاری رہا۔ قرطبہ سے باہر نکل کر انہوں نے حصول علم کی راہ کو وسیع تر کر لیا۔المریہ پہنچ کر ابن حزم نے باطنیہ اور معتزلہ کے نظریات کی معرفت حاصل کی۔شاطبہ سے ترک سکونت کیا تو طوق الحمامہ لکھی جس میں حسن و عشق کی دل چسپیاں اور خواتین کے احوال شامل ہیں۔المستکفی کی قید میں اپنے ایک واقعے کو بیان کرتے ہوئے خود بتاتے ہیں کہ کتنے ہی دن وہ حسابِ جمل کے ایک مسئلے میں
[2] دائره معارف إسلامیه، ماده ابن حزم، ص156